سیرت طیبہ اور مثالی محلے داری

127

نبی کریمؐ نے ایک پُرامن اور مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے محلے داری کے نظام کو بہتر رکھنے پر خاص زور دیا ہے، پڑوسیوں کے حقوق متعین فرمائے ہیں ویسے بھی اچھا پڑوسی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ خدانخواستہ کسی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں قرابت دار اور رشتے دار تو بہت بعد میں پہنچ پاتے ہیں سب سے پہلے پڑوسی ہی خبر گیری کرتے اور مدد دیتے ہیں۔ عربی کی مثا ل ہے کہ سل عن الجار قبل الدار، یعنی گھر لینے سے پہلے پڑوسی کے متعلق معلومات حاصل کرو ۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ ’’کشادہ گھر، نیک پڑوس اور اچھی سواری انسان کی خوش قسمتی میں سے ہیں‘‘۔ (مسند احمد، الادب المفرد) ایک حدیث میں آپؐ نے پڑوسیوں کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں: ایک پڑوسی ایسا ہے جس کا ایک حق ہے، وہ کافر و مشرک پڑوسی ہے۔ دوسرا پڑوسی وہ ہے جس کے دو حق ہیں، ایک حق مسلمان ہونے کا اور دوسرا حق رشتے دار ہونے کا ہے۔ اور تیسرا پڑوسی وہ ہے جس کے تین حق ہیں، ایک حق پڑوسی ہونے کا، دوسرا مسلمان ہونے کا اور تیسرا رشتے دار ہونے کا۔
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ آپؐ نے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ مومن نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ کون مومن نہیں ہوسکتا؟ فرمایا: وہ شخص جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ (بخاری) بخاری کے شارح حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ پڑوس کا لفظ مسلم اور کافر، عبادت گزار اور فاسق، دوست اور دشمن، پردیسی اور ہم وطن، نفع پہنچانے والے اور نقصان پہنچانے والے، رشتے دار اور اجنبی، قریب گھر والے اور دور گھر والے سب کا احاطہ کرتا ہے۔ حسن بصریؒ سے پڑوسی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ چالیس گھر اس کے سامنے، چالیس گھر پیچھے، چالیس گھر دائیں طرف اور چالیس گھر بائیں طرف۔ (الادب المفرد) (اس کی سند کو علامہ البانی نے حسن کہا ہے)
ایک شخص نے نبیؐ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یارسول اللہ! فلاں عورت بہت نمازیں پڑھتی ہے، روزے رکھتی ہے اور صدقہ خیرات کرتی ہے، لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے آپؐ نے فرمایا کہ وہ عورت دوزخی ہے۔ پھر اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! فلاں عورت روزے، صدقات اور نمازیں تو کم پڑھتی ہے لیکن وہ پنیر کے ٹکڑے صدقے میں دیتی ہے اور اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ (مسند احمد، الادب المفرد)
سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی نصیحت کرتے رہے کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس کو وارث بنادیں گے‘‘۔ (بخاری ومسلم) نبی کریمؐ نے پڑوسیوں کی عزت کرنے، ان کی تکلیف برداشت کرنے، ان کو تحفے دینے، خبر گیری رکھنے کی نصیحت فرمائی ہے کہ آپؐ کا فرمان ہے کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر سوجائے اور وہ یہ جانتا ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے۔ (مجمع الزوائد)
آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمیں پڑوسیوں کے حقوق کی خود اپنے ہاتھوں اور اپنے رویّوں سے پامالی ہوتی نظر آئے گی اس لیے ہمیں سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنے معاملات کا جائزہ لے کر ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور پڑوسیوں کے ساتھ ربیع الاول کی ان بہاروں سے ہی حسن سلوک کا آغاز کر دینا چاہیے۔ حسن سلوک میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، مثلاً: اپنی حیثیت کے مطابق ان کے ساتھ نیکی کرنا، ان کو سلام کرنا، تحائف دینا، احوال کی خبر گیری کرنا، ہمدردی اور خیرخواہی کرنا، ضرورت کے وقت مدد کرنا، اپنی دیوار اتنی اونچی نہ کرنا کہ پڑوسی کی ہوا اور روشنی رک جائے، اپنے بچوں کے لیے کوئی چیز لائی جائے تو پڑوس کے بچوں کو نہ دکھائی جائے کہ اگر وہ اسے خریدنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو وہ ترستے رہیں۔ اگر پڑوسی بہت گناہ گار ہے تو اس کی عیب پوشی کریں، اسے دوستانہ نصیحت کریں اس کے لیے دعائیں مانگیں اگر پڑوسی غیر مسلم ہے تو اس سے اسلام کی خوبیوں کا ذکر کریں اور اپنے کردار سے اسلام کی دعوت پیش کریں۔