معاشی ترقی کی رفتارمنفی 1.5فیصد ہے،میاں زاہد حسین

147

کراچی( اسٹاف رپورٹر )پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت صنعتی اور زرعی ترقی کو توجہ دے رہی ہے مگر اس سلسلے میں کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ کمزور معیشت والے ممالک کا دفاع کبھی مضبوط نہیں رہ سکتا۔پاکستان کے خلاف عالمی اور علاقائی قوتوں نے سازشوں کا بازار گرم کیا ہوا ہے جن میں تیزی آ رہی ہے مگر ہماری معاشی ترقی کی رفتارمنفی 1.5فیصد ہے جبکہ اسمیں مثبت اضا فے کی ضرورت ہے جو کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں اضا فے سے ہی ممکن ہے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ دنیا میں چند ترقی پذیر ممالک ایسے رہ گئے ہیں جو سیاست اور دفاع کو معیشت سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں جبکہ تمام ترقی یافتہ ممالک کی فارن پالیسی اور دیگر اقدامات معیشت کے تناطر میں ہوتے ہیں۔پاکستان کو بہت سے معاملات میں اپنے مفادات کے خلاف فیصلے کرناہوتے ہیں کیونکہ اس کا دارومدار غیر ملکی امداد پر ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو درمیانے درجے کے ممالک کبھی ہمیں بلیک میل نہ کر پاتے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو ترقی دینے کے لئے ارباب اختیار کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی اورتمام وزارتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا جبکہ اشیاء اور خدمات پر محاصل عائد کرتے ہوئے حکومتی آمدنی میں اضافے کے بجائے پیداوار اور تجارت میں اضافے کا سوچنا ہو گا۔ کاٹن کی پیداوار ،15ملین بیلز کے ہدف کے مقا بلے میںنصف ہے جس میں اضا فے سے معاشی اور دیہی ترقی میں اضا فہ ہوگا۔