بلدیہ وسطی میں اقربا پروری کا چلن انتظامی بحران سر اٹھانے لگا

110

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر و ڈپٹی کمشنر سمیت بلدیہ وسطی کے حکام اشتہاری کمپنیوں کے سرپرست بن گئے، محکمہ اشتہارات کا ضلع بھر میں عدالت عظمیٰ کے احکامات کے برخلاف لگائے گئے اشتہاری بورڈ کے زبانی اجازت نامے بانٹنا شروع کردیے ہیں،ذرائع کے مطابق معاملات طے پانے کے بعد ضلع بھر میں حکام کی سرپرستی میں اشتہاری بورڈ،اسٹیمرز سمیت دیگر ڈیوائسز نصب کردی گئیں، اشتہاری بورڈ سے حاصل ہونے والی آمدنی کس کھاتے میں جمع کی جاتی ہے، اب تک معمابنا ہوا ہے۔ بلدیہ وسطی میں حکام کی اقربا پروری کے باعث ایک بار پھر سنگین انتظامی بحران پیدا ہوگیا ہے، چندماہ قبل ضلع وسطی میں عدالت عظمیٰ کے احکامات کے برخلاف لگائے گئے اشتہاری بورڈ کے خلاف کارروائی کرکے تمام اشتہاری بورڈ،اسٹیمرز ہٹا دیے گئے تھے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ اشتہارات کے ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ نے تعیناتی کے بعد مختلف اشتہاری کمپنیوں کے مالکان سے بھاری رشوت کے عوض معاملات طے کرکے ایک بار پھر ضلع کی مختلف مصروف سڑکوں پر اشتہاری بورڈ اور اسٹیمرز سمیت دیگر اشتہاری ڈیوائسز نصب کرادی ہیں جس کی نشاندہی کے باوجود ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی ہے اور نہ ہی کسی اشتہاری بورڈ کو اتارنے کے اقدامات کیے نہ ہی گرین بیلٹ کے کھمبوں پر لگے اسٹیمرز اور پیڈیسٹرین برجز پر نصب کیے گئے اشتہاری بورڈ ہٹائے گئے۔ ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر نے افسران کو کسی بھی اشتہاری بورڈ کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ کے درمیان معاملات طے پا جانے کے بعد محکمہ اشتہارات کے افسران نے اشتہاری کمپنیوں کوضلع میں اشتہاری بورڈز لگانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔