ماہ صفر قرآن و حدیث کی روشنی میں

1186

 

محمد رضوان سعید نعمانی

زمانہ اسلام سے پہلے عرب میں اس ماہ کے حوالے سے بدشگونیاں پائی جاتی تھیں، اسے منحوس جان کر اس سے بد فالی لینا عام تھا، کفار کا اس طرح توہمات میں پڑنا دولتِ اسلام سے محروم ہونے کی بنا پر باعثِ تعجب نہیں۔ مگر افسوس صد افسوس آج مسلمانوں میں بھی اس طرح کے گمراہ عقائد رکھنے والوں کی بہتات ہے، جو اس ماہ کو منحوس خیال کرتے ہوئے اس میں شادی بیاہ، نیا کاروبار شروع کرنے اور ابتدائی تیرہ راتوں میں میاں بیوی کے ملاپ سے اجتناب کرتے ہیں۔
اس ماہ میں بلائیں کثرت سے نازل ہوتی ہیں، بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایک سال میں دس لاکھ اسّی ہزار بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان میں صرف اس مہینے (صفر) میں نو لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں۔
جناب محمدؐ کو اس مہینے میں مرض الوفات پیش آیا، اس لیے یہ منحوس ہے۔
یہ مہینہ رحمتوں اور برکتوں سے خالی ہے، اس لیے منحوس ہے۔
ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ماہ صفر میں ایک آواز پیدا ہوگی، جس سے ماہ ربیع الاول میں قبائل جھگڑیں گے، پھر جمادی الاول، جمادی الثانی اور رجب کے درمیان عجیب وغریب چیزیں رونما ہوں گی۔
بغرض صدقہ وخیرات چھولے بانٹنا تاکہ اس ماہ کی نحوست سے محفوظ رہیں۔
نئے شادی شدہ جوڑوں کو اس ماہ کی پہلی تیرہ تاریخوں میں ایک دوسرے سے جدا رکھنا۔
محرم کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کا، کام اس لیے نہ کرنا کہ اس میں سیدنا حسینؓ کی شہادت ہوئی۔ صفر کے مہینے میں اس لیے نہ کرنا کہ اس میں سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا۔
اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو گھونگیاں تقسیم کرنا۔
آخری بدھ سے منسوب بعض مخصوص بدعات:
روزے کا اہتمام کرنا۔
مخصوص طریقے پر چاشت کے وقت نوافل کا اہتمام کرنا۔
عمدہ عمدہ کھانے تیار کرکے دوسروں کو کھلانا۔
چُوری /چری کا اہتمام کرنا (ایک خاص قسم کا میٹھا کھانا ہے)
اس دن گھروں سے پکنک کے غرض سے شہر کی آلودگی سے دور کسی پارک، کھیتوں یا کسی خوشگوار جگہ اس لیے جانا کہ اس دن آپؐ کو بیماری سے افاقہ ہوا تھا، تو آپؐ سیر وتفریح کے لیے مدینہ طیبہ کے مضافات میں نکلے تھے۔
حالانکہ صحیح روایات اس کے بالکل برعکس ہیں کہ اسی دن آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، مشہور سیرت نگار علامہ سید سلمان ندوی لکھتے ہیں: ’’زیادہ تر روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کل تیرہ دن بیمار رہے، اس بنا پر اگر تحقیقی طور سے متعین ہو جائے کہ آپ نے کس تاریخ کو وفات پائی تو تاریخ آغاز مرض بھی متعین کی جاسکتی ہے۔ ایام علالت کی مدت آٹھ روز تو یقینی ہے، عام روایات کی رُو سے پانچ دن اور بھی ہیں اور یہ قرآئن سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے تیرہ دن مدت علالت صحیح ہے۔ اس حساب سے علالت کا آغاز ماہ صفر کے آخری بدھ سے ہوتا ہے۔ (حاشیہ سیرت النبیؐ، مولانا شبلی نعمانی)
مزدوروں کا کارخانے کے مالکان کو اس دن کی چھٹی کرنے اور مٹھائی کھلانے پر مجبور کرنا۔
آیات سلام (سلاماً قولاً من رب رحیم…) کسی خطاط سے لکھوا کر پانی میں گھول کر اس نیت سے پینا کہ میں اس ماہ میں نازل ہونے والی بلاؤں سے بچ جاؤں گا۔
آخری بدھ کو منحوس قرار دینا۔
ماہ صفر کے اختتام کی خبر دینے والے کو جنتی سمجھنا۔
صفر کے متعلق بعض من گھڑت وموضوع روایات:
دشمنان اسلام نے دین اسلام کے شفاف چہرے کو مسخ کرنے کے لیے بے شمار ہتھکنڈے استعمال کیے، سب سے خطرناک یہ کہ اپنی خرافات کو مسلمانوں میں رواج دینے کے لیے رسول اللہؐ کی طرف من گھڑت باتیں منسوب کرکے جہنم کو اپنا دائمی ٹھکانہ بنالیا۔ محدثین کرام کو اللہ جزائے خیردے۔ انہوں نے دن رات ایک کرکے جھوٹ کو آپؐ کی احادیث سے ایسے نکال باہر کیا جیسے مکھن سے بال۔ ذیل میں ماہِ ’’صفر المظفر‘‘ کے بارے میں چند من گھڑت احادیث ملاحظہ کیجیے:
’’جس نے مجھے صفر کے اختتام پذیر ہونے کی خوشخبری دی تو میں نے اسے جنت کی بشارت دی‘‘۔ (الموضوعات الکبری)
’’مہینے کا آخری بدھ سراسر نحوست ہے‘‘۔ (کشف الخفاء)
’’صفر میں ایک آواز پیدا ہوگی، جس سےربیع الاول میں قبائل جھگڑیں گے، پھر جمادی الاول، جمادی الثانی اور رجب کے درمیان عجیب وغریب چیزیں رونما ہوں گی‘‘۔ (اللآلی المصنوعہ للسیوطی)
یہ اور اس طرح کی دیگر بدعات ورسومات کی قرآن وسنت میں کوئی حقیقت نہیں محض دشمنان اسلام کی سازشوں سے ان خرافات کو دین اسلام کا حصہ بناکر اس کے بے داغ چہرہ کو داغ داغ کرنے کی ناپاک جسارت ہے۔
آپ علیہ السلام کا صفر المظفرمیں بیمار ہونا عقل کے تناظر میں:
صفر المظفر کو اس لیے منحوس قراردینا کہ اس میں آپؐ کو مرض الوفات پیش آیا ، تو پھر اس سے زیادہ منحوس تو ماہ ربیع الاول ہونا چاہیے کہ اس میں آپؐ کی وفات ہوئی۔ ماہ محرم کو بھی منحوس ہونا چاہیے کہ اس میں خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ اور نواسۂ رسول سیدنا حسینؓ شہید ہوئے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ رمضان المبارک جیسا بابرکت و فضیلت کا مہینہ بھی منحوس ہونا چاہیے کہ اس میں سیدنا علیؓ نے شہادت پائی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کوئی دن بھی نحوست سے خالی نہیں ہے کسی نہ کسی بڑی ہستی کا انتقال ہفتے کے سات دنوں میں کسی دن ضرور ہوا ہے۔
بدشگونیاں اور توہمات قرآن کے آئینے میں:
قرآن کریم کی روشنی میں بد شگونی و بد فالی کفار کا نظریہ وعقیدہ ہے، دامنِ اسلام اس قسم کی خرافات سے پاک ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں بارہا سابقہ کافر قوموں کے واقعات میں اس بات کا تذکرہ ملتاہے کہ وہ اپنے اوپر آنے والی مصائب وآلام کا ذمے دار وقت کے انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو ٹھہراتے کہ یہ سب تمہاری نحوست سے ہوا ہے۔
بدفالی کرنا اور کسی چیز کو نحوست جاننا باطل عقیدہ ہے۔ اسلام کا عقیدہ ونظریہ یہ ہے کہ مصائب وپریشانیاں اور بھلائیوں کا پیش خیمہ تقدیرِ الہٰی اور اچھے یا برے اعمال ہیں، ذیل میں بطور نمونہ چند آیات کا مفہوم ملاحظہ کیجیے:
’’آپ کو کو ئی بھی راحت آسائش یا بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کے حکم سے ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے (اپنے اعمال) کی وجہ سے ہے‘‘۔ (سورہ النساء، آیت: 79)
’’اگرکسی بستی وعلاقے کے باشندے ایمان لے آئیں اور اللہ سے ڈرنے لگیں تو ہم ان پر زمین وآسمان سے رحمتوں کے خزانے کھول دیں گے‘‘۔ (سورہ الاعراف، آیت : 96)
’’اے پیغمبر کہہ دیجیے ہمیں صرف اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا اللہ جل شانہ نے ہماری تقدیر میں ازل سے لکھ دیا ہے، وہی ہمارا حامی وناصر ہے، اسی ذات پر مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہیے‘‘۔ (سورہ التوبہ، آیت : 51)
’’جس نے نیک کام کیا تو اپنے فائدہ کے لیے کیا، اور جس نے برائی کی تو اس کا وبال اسی پر ہے کیونکہ اللہ تعالی بندوں پر ظلم نہیں کرتا‘‘۔ (سورہ فصلت، آیت : 46)
’’زمین اور سمندر میں فساد ظاہر ہونا انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی ہے‘‘۔ (سورہ روم، آیت : 41)
ماہ صفر المظفراحادیث کی روشنی میں:
رسول اللہ کے اقوال وافعال سے مذکورہ بالاخرافات وتوہمات کا باطل ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، اس لیے کہ آپؐ نے خدیجہؓ سے اسی ماہ نکاح کیا، انہی کے بطن سے آپؐ کی تمام اولاد ہے سوائے آپ کے بیٹے سیدنا ابراہیم کے۔ وہ سیدہ ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے تھے۔ نیز آپؐ کو بہت سی فتوحات اسی مہینے میں ہوئیں جن میں خیبر کی فتح سر فہرست ہے۔ ایسے ہی آپؐ نے اپنے اقوال سے ان عقائد کی تردید کی۔ صحیح بخاری میں ہے: کوئی بیماری کسی مریض سے دوسرے کو نہیں لگتی، بد شگونی اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں۔ ہامہ عربوں کے وہم میں ایک پرندہ ہے جو مقتول کا قصاص نہ لینے تک صدا لگاتا رہتا ہے کہ مجھے سیراب کرو۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے: ’’جس نے ہمارے دین کے معاملے میں نیا کام شروع کیا (جو آپؐ، خلفاء اربعہ اورصحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں) تو وہ مردودہے۔