کے الیکٹرک کو ٹیرف میں اضافے کی اجازت نہ دی جائے(حافظ نعیم الرحمن کی نپیرا سماعت میںشرکت)

143

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ ایک روپے 54پیسے کے مزید اضافے کے لیے نیپرا کی آن لائن سماعت میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی شرکت کی اور کے الیکٹرک کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کو بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی اجازت نہ دی جائے ۔ سماعت نیپرا کے چیئر مین توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت ہوئی ۔ سماعت میں نیپرا کے وائس چیئر مین سیف اللہ چٹھہ نے بھی شر کت کی ۔ کے الیکٹرک نے نئی سرمایہ کاری کرنے کو بنیاد بنا کر ٹیرف میں اضافے کی درخواست دی ہے ۔ آن لائن سماعت میں حافظ نعیم الرحمن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک نے ماضی میں بھی معاہدے کے مطابق 361ملین ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ نجکاری کے 15سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کے الیکٹرک بجلی کی پیداوارمیں خود کفالت حاصل نہ کر سکی اور اس کا سارا انحصار این ٹی ڈی سی سے حاصل کردہ بجلی پر ہے ۔ آج اگراین ڈی ڈی سی سے بجلی کی فراہمی بند کر دی جائے تو کے الیکٹرک کی ساری سرمایہ کاری کے دعوے بے نقاب ہو جا ئیں گے ۔ کے الیکٹرک جس وسط مدتی جائزے کے دوران نئی سرمایہ کاری کے کاغذی منصوبے کو بنیاد بنا کر بجلی کے ٹیرف میں مزید اضافہ مانگ رہی ہے اس کا مقصد صرف اور صرف اپنے منافعے میں نا جائز اضافہ ہے ۔ اگر صرف پچھلے 6ماہ کا جائزہ لیا جائے تواس دوران کورونا کی وبا کے باعث کاروباری مراکز ، مارکیٹس اور انڈسٹریز بند تھیں اور لوگ گھروں میں موجود تھے ۔ کے الیکٹرک نے اس دوران بھی بد ترین لوڈشیڈنگ جاری رکھی ۔ سخت گرمی اور حبس کے موسم میں شہریو ں کو 10,10،12,12 گھنٹے تک بجلی سے محروم رکھا گیا۔ بارشوں کے دوران اس کا پورا نظام بیٹھ گیا جبکہ کرنٹ لگنے سے اموات اس سال بھی ہوئیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور بد ترین لوڈشیڈنگ پر اس کا لائسنس منسوخ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے نیپرا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی ٹرانسمیشن ، ڈسٹری بیوشن اور جنریشن کی مانیٹرنگ کے لیے براہ راست ڈیٹا پر ابھی تک کیوں رسائی حاصل نہ کر سکی ۔ جس کے لیے حکومت نے( SCADA) سسٹم نصب کرنے کے لیے ایک ارب کی خطیر رقم کے الیکٹرک کو فراہم کی تھی اور آج بھی بجلی کی پیک ڈیمانڈ اور سپلائی کے لیے کے الیکٹرک کی فراہم کردہ بے بنیاد اور غلط معلومات پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ پبلک ایڈ کمیٹی کے نائب صدر عمران شاہد نے بھی نیپرا سماعت میں حصہ لیا اور کہا کہ کے الیکٹرک ایک نجی کمپنی ہونے کے باوجود حکومت کے خزانے سے 90ارب روپے سالانہ تک سبسڈی وصول کر رہی ہے جبکہ کے ای ایس سی کی نجکاری کی ایک بڑی وجہ اور بنیاد حکومت کو نجی کمپنی ہونے کے باعث حکومتی خزانے سے سبسڈی نہ دینے کی بنائی گئی تھی مگر نجکاری کا مقصد حاصل نہ ہو سکا جبکہ 2005ء میں سر کاری کے ای ایس سی کو صرف ڈیڑھ ارب سالانہ سبسڈی دی گئی تھی ۔ کراچی کے معروف تاجر عارف بلوانی نے نیپرا کو توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ قانونی طور پر وسط مدتی جائزے میں صرف اس بات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ کے الیکٹرک نے ملٹی ائر ٹیرف کے مطابق وسط مدت تک کتنی سرمایہ کاری کی جبکہ کے الیکٹرک کا سرمایہ کاری کے نام پر ٹیرف میں اضافہ مانگنا خلاف قانون اور شہر کے ملٹی ائر ٹیرف آرڈر کے بھی برخلاف ہے ۔