حافظ نعیم الرحمن کا سندھ ہائیکورٹ کا دورہ،وکلا کو مارچ میں شرکت کی دعوت

99
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ کا دورہ کیا ،وکلا سے ملاقات کی اور ان کو 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ہونے والے ’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر اسلامک لائرز موومنٹ پاکستان کے صدر خان افضل خان،شعاع النبی ، عبد الصمد خٹک،عثمان فاروق، شاہد علی خان ، طلعت یاسمین ،روبینہ جتوئی، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں اوروکلا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تحریک شروع کی ہوئی ہے اسی سلسلے میں 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر عظیم الشان حقوق کراچی مارچ منعقد کیا جائے گا،کراچی پیکج پر سیاست کی جارہی ہے اورکراچی کے مسائل حل کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے ،ہمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں سے کراچی کے لیے کسی خیر کی توقع نہیں ہے جس طرح ماضی میں 162ارب روپے کے پیکج کا آج تک پتا نہیں چلا اسی طرح 1100ارب روپے کاپیکج بھی کراچی کے عوام کے ساتھ سراسر دھوکا اور فراڈ ہے ،1100ارب روپے کاکراچی پیکج محض اعلان کے سوا کچھ نہیں ،حکومتیں کراچی کو لندن ، پیرس اور نیویارک بنانے کے دعوے کرتی ہیں لیکن کراچی کے عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ کراچی کو کراچی ہی رہنے دیا جائے ،ایسا شہربنایا جائے جوکہ عبدالستارافغانی اور نعمت اللہ خان کے دور میں تھا جس میں کراچی کا پوراانفرااسٹرکچر ٹھیک تھااور کراچی ٹرانسپورٹ کا ادارہ بھی موجود تھا۔ہم ایسا کراچی چاہتے ہیں جو امن وامان کی مثال ہو جہاں کرپشن اورلوٹ مار نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کا مقصد کراچی کو ٍاس کا جائز اور قانونی حق دلانا ہے ،اس کے لیے کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے ،کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ نہیں 3 کروڑ تک پہنچ گئی ہے اس لیے یہاں کی آبادی صحیح اعدادو شمار کے مطابق ظاہر کی جائے اور پھر اصل آبادی کے مطابق ہی کراچی کی منصوبہ بندی کی جائے ،جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی میں رہنے والے ہر فرد اور ہر لسانی اکائی کے لیے ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی میں رہنے والے تمام زبان بولنے والوںاور تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے جدوجہد کررہی ہے ،اس لیے اسے لسانی رنگ نہ سمجھا جائے ،وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے 600ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے بلکہ اس سے زیادہ کراچی سے وصول کرلیے ہیں ،سندھ حکومت کراچی سے 90فیصد ریونیو حاصل کرتی ہے لیکن کراچی پر خرچ نہیں کرتی ۔جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی کے حقوق کے لیے ہے، ہم کراچی کا حق مانگ رہے ہیں کوئی بھیک نہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلامک لائرز موومنٹ اور وِل فورم کی خواتین اورپوری وکلا برادری پاکستان کی آئینی ،قانونی اور جمہوری جدوجہد میں جماعت اسلامی کے تحت حقوق کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کرے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کے الیکٹرک نے نیپرا کو مڈ ٹرم ٹیرف میں اضافے کی درخواست دی ہے جبکہ پہلے ہی عمران خان ہر ماہ ایک 2 روپے اضافہ کر کے کے الیکٹرک کو نواز رہے ہیں اور اب کے الیکٹرک کے ٹیرف میں مزید اضافے کی بات کی جارہی ہے ،تمام حکومتی جماعتیں کے الیکٹرک کو مکمل سپورٹ کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور نیپرا میں کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑرہی ہے ،کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافہ نہیں بلکہ ان کا لائسنس منسوخ کیاجائے ۔ اس وقت وزیر اعظم ،اسد عمر سمیت ان کی پوری ٹیم اربوںروپے کے نادہندہ ابراج گروپ کو فرار کرانا چاہتی ہے ، پی ٹی آئی کو ابراج گروپ نے الیکشن میں فنڈ دیا ہے اس کی قیمت کراچی کے عوام سے وصول نہیں کرنے دی جائے گی ، ایک ایک روپیہ قومی خزانے میں آنا چاہیے جس نے بھی ابراج گروپ کو فرار کا موقع دیا جماعت اسلامی اس کا گھیراؤ کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ نیپرا کے موجودہ چیئرمین سے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف ایکشن لیں گے، کے الیکٹرک کے سسٹم ہیک ہونے کی صاف وشفاف تحقیقا ت کرائی جائے کہ سسٹم ہیک ہوا ہے یا ہیک کرایا گیا ہے تاکہ ان کا فرانزک آڈٹ نہ کرایا جاسکے ۔