سندھ ہائیکورٹ نے ایک ماہ میں 62 لاپتا افراد بازیاب کرائے

48

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جبری لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق کیسز میں سندھ ہائی کورٹ کا تاریخی کارنامہ‘جسٹس نذر اکبر اور جسٹس مبین لاکھو پر مشتمل بینچ نے28 روز کی سماعت کے دوران 62 لاپتا افراد بازیاب کرالیے وہ کئی ماہ سے لاپتا تھے‘ عدالت نے ایک ماہ کے دوران جبری گمشدگیوں سے متعلق 162 درخواستیں بھی نمٹادیں‘ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر کئی ڈی ایس پیز اور انسپکٹرز کو معطل بھی کیا۔ عدالت نے غلط بیانی کرنے اور ناقص تفتیش پر کئی پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا بھی حکم دیا ‘ عدم بازیابی پر آئی جی سندھ، سیکرٹری داخلہ، ڈی آئی جی ایسٹ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور دیگر افسران کو بھی طلب کیا گیا‘ ائر پورٹ حملہ کیس کے ملزم ندیم پٹیل کے اغوا کے الزام میں انچارچ سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ جسٹس نذر اکبر نے دوران سماعت کہا کہ جو تفتیشی افسران لاپتا افراد کے کیس میں ناقص تفتیش کریںگے یا شواہد جمع نہیں کریںگے‘ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عدالت نے دیگر گمشدہ افراد کی فوری بازیابی کا بھی حکم دیا۔