فرانسیسی صدر میکرون کو مستقبل میں بہت تکلیفیں پہنچیں گی، ترک صدر

333

انقرہ:صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر میکرون کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مستقبل میں مجھ سے مزید تکلیفیں پہنچنے والی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا  کے مطابق   استنبول میں فوجی بغاوت کے چالیس سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردگان نے کہا کہ فرانسیسی صدر ترکوں کی تاریخ کو اچھی طرح پڑھ لیں کیونکہ ترک فرانس کی تاریخ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

ترک صدر  نے فرانسیسی صدر ایمانویل کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ سوڈان، نائیجریا اور روانڈا میں فرانس نے کیا کیا؟ فرانسیسی فوجیوں نے افریقہ کے ہزاروں افراد کو قتل کیا، سونے اور ہیرے کی کانوں پر قبضے کے لئے فرانس نے افریقی عوام کا خون بہایا۔

رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ فرانس لیبیا کی باغی ملیشیا کو کیوں سپورٹ کر رہا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف خام تیل ہے، فرانس قدرتی وسائل کے لئے انسانوں کا خون بہاتا آیا ہے اور اب بھی بہا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ترکی نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران جو کردار ادا کیا ساری دنیا تعریف کر رہی ہے، ترکی نے افریقی ممالک سمیت دنیا کے 150 سے زائد ممالک کو مفت طبی آلات اور کورونا وائرس سے لڑنے کی کٹس فراہم کیں ہیں۔

ترک صدر نے فرانسیسی صدر سے پوچھا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران فرانس نے کیا کیا؟ فرانسیسی صدر فرانس کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہ بنے۔

رجب طیب ایردگان نے واضح کیا کہ ترکی اپنے فیصلے خود کرے گا۔