معذور افراد کو پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دی جائے،راشد محمود

97

کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لیے ڈیوٹی فری وہیکل در آمد کرنے کی سہولت نئی گاڑی کی شرط کے باعث غیر موثر ثابت ہورہی ہے۔جاپانی گاڑیوںکے ایکسپورٹر اور ایم ڈی کے کمپنی کے سی ای او راشد محمود اعوان کے مطابق معذور افراد کے لیے نئی گاڑی در آمد کرنے کی عائد شرط کو ختم کیا جائے اور انہیں سات سال تک پرانی گاڑیوںکی در آمد کی اجازت دی جائے تا کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے معذور افراد بھی اس حکومتی اسکیم سے فائد ہ اٹھاسکیں۔انہوںنے بتایا کہ معذور افراد کے لیے دستیاب کوئی بھی گاڑی 1300سی سی سے کم نہیں ہے جبکہ ڈیوٹی فری در آمد کے باوجود اس پر سیلز و انکم ٹیکس،فریٹ چارجز اور ضروری ایسیسریز کی تنصیب کے بعد اس کی قیمت50تا60لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے اور اس قدر مہنگی گاڑی محض ایسے معذور افراد ہی خرید سکتے ہیںجو کہ صاحب ثروت ہوں جبکہ سات سال پرانی گاڑیوں کی در آمد کی اجازت سے ان کی قیمت میںایک چوتھائی کمی متوقع ہے،انہوںنے مزید بتایا کہ اس اسکیم کے غیر موثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اسکیم کے تحت سالانہ در آمد کی جانے والی گاڑیوںکی شرح محض0.01فیصد ہے ،معذور افراد کے کوٹے پر در آمد کی جانے والی گاڑیوں کے غلط یا کمرشل استعمال کی روک تھام کے لیے انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایسی گاڑیوںکی مخصوص کلر اسکیم یا خصوصی نمبر پلیٹ کے ذریعے ان گاڑیوں کے حقیقی مقصد کے لیے استعمال کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جبکہ معذور افراد کو با عزت روزگار کی فراہمی کے لیے اسی سہولت کے تحت کمرشل گاڑیاں بھی در آمد کی جاسکتی ہیں اور اس میںسیلز ٹیکس کا استثنیٰ بھی دیا جاسکتا ہے،واضح رہے کہ اس وقت ملک میںمعذور افراد کی تعداد لگ بھگ آبادی کا 10فیصد ہے ۔