آئی جی پنجاب کی تبدیلی، پولیس افسران کا نئے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار

617

لاہور: آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تبدیلی اور ان کی جگہ انعام غنی کی تعیناتی پر پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران نے نئے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی فنانس پنجاب طارق مسعود یاسین نے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر لاہور کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے نئے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کے ماتحت کام کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

انہوں نے تحریری درخواست میں کہا کہ نئے آئی جی پنجاب مجھ سے جونیئر ہیں ،میں ان کے نیچے کام نہیں کرسکتا، مجھے فوری ٹرانسفر کردیا جائے۔

طارق مسعود یاسین نے کہا کہ تبادلے کا فیصلہ ہونے تک میری چھٹی کی درخواست نئے آئی جی کو دی جائے،پولیس میں وقار اور اصولوں کے ساتھ نوکری کی۔

آئی جی کی تبدیلی پرپنجاب پولیس کے افسران کا ردعمل

آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی برطرفی پر پنجاب پولیس کےاعلیٰ افسران میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے اور اس معاملےپر سی پی او آفس لاہور میں اعلیٰ پولیس افسران کا ہنگامی اجلاس ہوا جنہوں نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا۔  اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز ، ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز اور اے آئی جیز نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ مس کنڈکٹ پر اور چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی پر سی سی پی او کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے، اگر سی سی پی او آئی جی پنجاب کا حکم نہیں مانے گا تو لاہور پولیس چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی کرنے والے سی سی پی او کا حکم نہیں مانے گی۔