ایک دن میں پنجاب میں ڈینگی کے 630 مشتبہ کیسز ریکارڈ ہوئے

172

کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی بخار کا خطرہ، نئے مشتبہ کیسز سامنے آنے لگے، اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں عوام کو مذید خیال رکھنا ہوگا۔

لاہور: ابھی کورونا وائرس کا خطرہ ختم نہیں ہوا ہے اور پنجاب بھر میں ڈینگی بخار نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔

ہفتے کے روز صوبے میں ڈینگی بخار کا ایک تصدیق شدہ مریض سامنے آیا ہے جس کے بعد پنجاب میں 44 جنکہ لاہور میں 15 مریض اب تک تصدیق رپورٹ ہوگئے ہیں اور 630 افراد مشتبہ طور پر اب داخل کیے گیے ہیں۔

محکمہ صحت پنجاب کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ڈینگی بخار کے ایک نئے مریض کی اطلاع ملی ہے اور اب تک 48 مریض صحت یابی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کردیے گئے ہیں جبکہ باقی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

محکمہ پنجاب پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان نےبتایا ہے کہ تمام مشتبہ معاملات کو نگرانی میں رکھا ہے اور وہ ان کے طبی معائنے اور علاج کر رہے ہیں۔

ترجمان نے انکشاف کیا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران صوبے میں 9217 مقامات پر ڈینگی لاروا پایا گیا تھا اور روک تھام کیلئے اقدامات شروع کررہے ہیں اور یہ لاروے بارشوں کے بعد مقامات پر پانی جمع رہنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

واضح رہے ڈینگی مچھر سے پھیلنے والا انفیکشن ہے جو تیز بخار اور فلو جیسے شدید حالات کا باعث بنتا ہے۔

ڈینگی بخار کا وائرس عوامی صحت کیلئے خطرہ ہے اور اس کی شناخت بہت ضروری ہے۔

ڈینگی کی علامات جو عام طور پر انفیکشن کے 4 سے 6دن بعد شروع ہوتا ہیں اور 10 دن تک جاری رہتا ہے اور اس میں تیز بخار، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، سر درد اور تھکاوٹ شامل ہے۔

دوسری جانب ڈینگی بخار کے واقعات میں اضافے کے بعد، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی حال ہی میں اس معاملے پر تشویش کا اظہارکیا ہے، وزیراعلیٰ نے متعلقہ عہدیداروں کو صوبہ بھر میں انسداد ڈینگی مہم چلانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کو اس بیماری پر لگام ڈالنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر کمشنر لاہور ذوالفقار احمد گھمن نے عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانا بہت ضروری تھا۔