جذباتیت یا بے صبری کیا ہے؟

375

سید سعادت اللہ حسینی
جذبات جب بے قابو ہوجاتے ہیں تو آدمی کو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رہتا، وہ جذبات کا قیدی بن جاتا ہے۔ اس کا شعور معطل ہوجاتا ہے۔ حواس معذور ہوجاتے ہیں۔ سورج کی طرح روشن مناظر وہ نہیں دیکھتا، نوشتہ دیوار نہیں پڑھتا، فطرت کی بلند آہنگ صدائیں نہیں سنتا، اور دنیا ومافیہا اور امروز و فردا سے بے پروا ہوکر وہ سب کچھ کر گزرتا ہے جو جذبات کی اندھی آندھی اس سے کرانا چاہتی ہے۔ یہ ایک طرح کا نشہ ہوتا ہے۔ نشے میں آدمی بے قابو ہوجاتا ہے، اپنی حرکات وسکنات پر اس کا کوئی کنٹرول باقی نہیں رہتا۔ نقصان کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب نشہ اترجاتا ہے۔ اس وقت حقائق نظر آنے لگتے ہیں اورشدید پچھتاوا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات سے بے قابو آدمی کی ہوتی ہے۔ یہی جذباتیت اور بے صبری ہے۔
جذبات بھی اللہ کی دین اور اس کی عطا ہیں۔ آدمی کے اندر غصہ اور غضب نہ ہو تو دنیا کی برائیاں اور ظلم وستم اس کے اندر کوئی ایسی بے چینی اور اضطراب پیدا نہیں کریں گے جو ان برائیوں سے مقابلے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے اندر حمیت وغیرت نہ ہو تو وہ اپنے خاندان اور دین کی ناموس کی حفاظت نہیں کرسکے گا۔ اس کے بالمقابل، اس کے اندر ڈر اور خوف کے جذبات نہ ہوں تو خطروں اور دشمنوں سے خود کو بچانا ممکن نہیں ہوگا۔ جنسی جذبہ، آدمی کے سکون و طمانیت اور نسل انسانی کی بقا و تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ روزی کمانے کی خواہش اور بیوی بچوں سے محبت کے بغیر خاندان کے ادارے کی تعمیر و بقا ممکن نہیں ہے۔ یعنی جذبات کا انسانی زندگی میں نہایت مثبت رول ہے۔ اْن کا خاتمہ نہ تو ممکن ہے، نہ مفید اور نہ ہی مطلوب ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ سارے جذبات، نقطہ اعتدال پر قائم رہیں اور دین کی تعلیمات کی روشنی میں عقل و شعور کے ذریعے ان کو قابو میں رکھا جائے۔ قابو میں رکھنے کی اس صلاحیت کا نام ہی صبر ہے۔
جذباتیت یا بے صبری، رد عمل کے رویے (behavior reactive ) کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کا عمل، ان کی سرگرمی، ان کے معمولات، سب کچھ مکمل طور پر بیرونی قوتوں اور ان کے اقدامات پر منحصر ہوتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ کچھ نہیں کریں گے مگر حکومت کے کسی غلط فیصلہ پر اچانک مشتعل ہوکر میدان میں آجائیں گے۔ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے سے ان کو کبھی کوئی دل چسپی نہیں ہوگی لیکن کسی نے کوئی گستاخی کردی تو غیض وغضب کی پوری شدت کے ساتھ ردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ یعنی ان کے عمل اور اقدام کا تعین دوسروں کے اعمال اور اقدامات سے ہوتا ہے۔
اس مزاج کے حامل لوگ ظالم استحصالی قوتوں کے لیے نرم چارہ اور سستے آلہ کار بنتے ہیں۔ ان قوتوں کے سیاسی مفاد کا تقاضا ہوگا تو وہ جب چاہیں گی ان کے جذبات کو بھڑکا کر یا مشتعل کرکے ان کے ذریعے اپنے من پسند حالات پیدا کرلیں گی۔ وہ غیر شعوری طور پر اپنے حریف کا مہرہ اور اس کے مفاد کی تکمیل کا ذریعہ بنیں گے۔ ان کی حرکات وسکنات دوسروں کی سوچ اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوں گی اور بالآخر اپنے حریفوں ہی کو فائدہ پہنچائیں گی۔
اس کے مقابلے میں صبر، اقدامی رویّے (behavior proactive) کا نام ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر ہو وہ اپنی قدروں پر، اپنے اصولوں پر، اپنے مقصد و نصب العین پر استقامت کے ساتھ جما رہے گا۔ اس کے لیے ہر دم متحرک رہے گا۔ اس کو متحرک کرنے والی اور اس کی سمت کا تعین کرنے والی چیز بیرونی قوتیں نہیں بلکہ اصلاً اس کے اپنے اصول، اس کا نصب العین اور اس کی اقدار ہوں گی۔ وہ اپنے اصولوں کی بنیاد پر، شعور اور عقل کے استعمال سے، اپنے اقدامات کا تعین کرے گا۔ اس کا رویہ اور اس کے اقدامات، اس کی اپنی سوچ اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوں گے۔
لیکن یہ بات بھی خاص طور پر پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ صرف اشتعال میں آجانا اور انتہا پسندانہ رویوں کا شکار ہوجانا ہی بے صبری نہیں ہے بلکہ ڈر جانا، اندیشوں کا شکار ہوجانا، پست ہمت ہوجانا بھی بے صبری ہے۔ اس لیے کہ ڈر بھی ایک جذبہ ہے۔ یہ جذبہ بھی جب غلط موقع پر پیدا ہوجائے، بڑھ کر بے قابو ہوجائے اور اْن کاموں کی راہ میں مزاحم ہوجائے جن کا عقل و شعور تقاضا کرتے ہیں تو یہ بھی بے صبری ہے۔ ڈر، خوف، بزدلی، مداہنت اور بے اصولی بھی رد عمل پر مبنی رویے ہی کی پیداوار ہے۔ اس طرح کے جذبات کے شکار لوگ بھی حریفوں کے لیے نرم چارہ ہوتے ہیں۔ ان کے اقدامات بھی ان کی سوچ اور منصوبہ بندی کا نہیں بلکہ شاطر استحصالی طاقتوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
صبر طویل المیعاد مفاد کو ترجیح دینے کا نام ہے جب کہ بے صبری طویل المیعاد مفاد کو وقتی اکساہٹ اور مختصر المیعاد جذباتی تسکین پر قربان کردینے کا نام ہے۔ قوموں اور گروہوں کی ترقی اور عروج کا راز یہ ہے کہ طویل المیعاد مفاد پر نظر رکھی جائے۔ طویل المیعاد مصالح کی خاطر فوری درپیش مفادات کی قربانیاں دی جائیں۔ آنے والے کل کو دیکھا جائے۔ اس کے لیے اکساہٹوں، جذبات، اور اشتعال پر قابو رکھا جائے۔ ہر قدم سے پہلے یہ سوچا جائے کہ اس کا لانگ ٹرم نتیجہ کیا ہوگا؟
صبر منزل پر نگاہوں کو جماتا ہے اور راستے کی الجھنوں میں اس طرح الجھنے نہیں دیتا کہ ہم منزل سے غافل ہوجائیں۔ صبر اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسافر راستے میں پڑے ہر پتھر اور ہر رکاوٹ کو دیکھ کر غصے سے بے قابو ہوجائے اور اور اس پر لاحاصل مکّے اور لاتیں مار کر خود کو زخمی کرلے اور آگے بڑھنے کے لائق نہ رہے۔ صبر مناسب موقع کے انتظار کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مناسب موقع و محل کے میسر آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھنا بھی صبر کے مفہوم میں داخل ہے۔ منزل کی طرف طویل سفر صراط مستقیم پر مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل آگے بڑھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بے صبری ہمیشہ ایسے موہوم شارٹ کٹ تلاش کرتی ہے جو منزل سے دور کردیتے ہیں، جن پر اچانک بگ ٹٹ دوڑ ہمیں بے دم کرکے سفر کے لائق نہیں چھوڑتی۔
صبر کی یہ زبردست صفت اگر اجتماعی طور پر پوری قوم یا کسی گروہ میں پیدا ہوجائے تو ایک بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ یہ طاقت اسے سماجی طاقت ( power social) فراہم کرتی ہے۔ یہ ان طاقتوں میں سے ایک ہے جن کے بغیر کوئی بھی گروہ کسی لمبی جدوجہد اور کشمکش میں ٹک نہیں سکتا۔ اسی لیے قرآن مجید نے اسے کامیابی و سربلندی کے لیے ایک لازمی صفت قرار دیا ہے۔