کون کس پیج پر ہے؟

332

اب حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کی گفتگو کا انداز آخری دنوں کی گفتگو والا ہو گیا ہے۔ جس نے مخالفت کی وہ ملک دشمن، بھارت کا ایجنٹ وغیرہ۔ پہلے تو اسرائیلی ایجنٹ بھی کہا جاتا تھا لیکن اب تو اسرائیل سے ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں صرف بھارت پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نیازی نے کہا ہے کہ اپوزیشن اور بھارت ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کرانا چاہتا ہے اور اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے قانون سازی روکی ہے لیکن ہم ایف اے ٹی ایف قوانین بہر صورت منظور کرائیں گے۔ بہرحال یہ حکومت کی مجبوری ہے اسے جو حکم ملا ہے وہ تو کرنا ہے۔ ہماری حکومت نے دوبرس میں جتنے قوانین منظور کیے ہیں وہ کل 29 کے لگ بھگ ہیں اور ان میں سے 14 ایف اے ٹی ایف سے متعلق ہیں یا بالواسطہ متعلق ہیں اس پر سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ ایف اے ٹی ایف کی نمائندہ ہے یا پاکستانی عوام کی۔ اگر اپوزیشن اور بھارت کو ایک پیج پر قرار دیا جائے تو کیا حکومت پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے سرخیل امریکا و یورپ ایک پیج پر ہیں۔ اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو بلیک اور گرے لسٹ میں ڈلوانے میں بھارت سے زیادہ پاکستانی حکومتوں کا ہاتھ ہے۔ دنیا بھر میں ممالک ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہی رہتے ہیں لیکن پاکستان واحد ملک ہے جس کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھارتی الزامات کی تصدیق کی اور ممبئی ہوٹل حملے کی پوری کہانی اپنے سر لے لی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف نے کشمیر میں مداخلت اور افغانستان میں مداخلت کے الزامات کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کشمیریوں اور پاکستانی قبائلیوں کو غدار قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کر ڈالی۔ پورا سوات اور وزیرستان اکھاڑ ڈالا۔ کشمیر جانے والوں کے راستے بند کر دیے اور کشمیریوں کا نام لینے والوں کو بھی بند کر دیا۔ یہ پالیسی اب بھی جاری ہے۔ پھر شکوہ ہے کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کروانا چاہتا ہے اور اپوزیشن اس کی مدد کر رہی ہے۔ ایک موازنہ اگر سامنے رکھا جائے تو صورتحال ذرا مختلف نظر آئے گی۔ بھارت کشمیر پر مکمل قبضہ کرنا چاہتا ہے اور حکومت پاکستان کو اس پر کوئی تکلیف نہیں صرف بیانات اور کاغذی کارروائی کی گئی۔ یعنی ایک ہی پیج پر۔ بھارت برسہا برس سے آبی دہشت گردی کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوئی حکومت ٹھوس منصوبہ نہیں بناتی۔ یعنی حکومت پاکستان اور بھارت ایک پیج پر۔ بھارتی سکھ اور قادیانی پاکستان آنے میں مشکلات کا شکار تھے حکومت پاکستان نے کرتارپور بارڈر کھول دیا۔ یعنی حکومت اور بھارت ایک پیج پر۔ یہاں تک کہ جب ایران نے بھارت کو چاہ بہار اور دوسرے منصوبوں سے باہر کیا تو پاکستان نے اس کے لیے پاک افغان بارڈر اور واہگہ کھول دیا تاکہ وہ اپنا نقصان پورا کرلے اور اس آڑ میں اس کے جاسوس اور دہشت گرد بھی افغانستان چلے جائیں۔ تو پھر کون بھارت کے ساتھ ایک پیج پر ہوا۔ دراصل پیج بنانے اور ان پر اپنے مخالفین کو چسپاں کرنے کا رواج جنرل پرویز کے دور سے شروع ہوا لیکن اب یہ پرانا رواج ہے اور حکمرانوں کو ایسی باتیں کرنے کے بجائے حقائق کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہی کچھ اپوزیشن بھی کہتی ہے حالانکہ قومی اسمبلی میں تو اپوزیشن نے بڑی خوش دلی سے قانون منظور کرایا تھا۔ وزیراعظم عمران خان بڑے اعتماد سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ایف اے ٹی ایف قوانین ہر صورت منظور کرا لیں گے لیکن عددی اعتبار سے تو پی ٹی آئی کی کیفیت اچھی نہیں ہے۔ ہاں اگر جمعرات والا بیان درست ہے کہ فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے تو پھر اپوزیشن کے بہت سے لوگ حکومت کے پیج پر آجائیں گے لیکن اگر اپوزیشن ڈٹ جائے اور اراکین کی اکثریت کو جمع کر لے تو حکومت کو مشترکہ اجلاس میں بھی شکست دے سکتی ہے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ اپنے مفاد کے لیے پیج بنائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے پیج پر کون ہے۔