ٹنڈو آدم، ہیروئن کی کھلے عام فروخت، نشئی افراد نے ڈیرے جمالیے

88

ٹنڈو آدم (نمائندہ جسارت) ٹنڈو آدم میں ہیروئن کی کھلے عام فروخت، نشئی افراد نے ڈیرے جمالیے، 225 عادی رجسٹرڈ، 60 افراد ایڈز میں مبتلا، ایڈز مزید پھیلنے کا خدشہ، پچاس سے زائد افراد جاں بحق، پولیس خواب خرگوش میں مبتلا، سماجی تنظیموں کا نوٹس لینے کا مطالبہ۔ ٹنڈو آدم میں ہیروئن کا کاروبار کھلے عام جاری، شہر کے مرکز میں جامعہ ملیہ ہائی اسکول، جمن شاہ، کھڈ پاڑہ قبرستان سمیت کئی علاقوں میں ہیروئن کا مکروہ دھندہ دھڑلے سے جاری ہے، جہاں مبتلا افراد قطاریں لگا کر ہیروئن خریدتے نظر آتے ہیں۔ ٹنڈو آدم میں با آسانی ہیروئن ملنے کے سبب دیگر شہروں سے بھٹ شاہ، ٹنڈوالہٰیار، جام نواز علی، بیرانی سمیت دیگر شہروں کے نشئی افراد افراد نے جیم خانہ کلب، پرانی فائر بریگیڈ کی بوسیدہ عمارت میں ڈیرے جمالیے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ٹنڈو آدم میں اس وقت 225 ہیروئن کے عادی رجسٹرڈ ہیں، جن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رجسٹرڈ 60 افراد ایڈز میں مبتلا ہیں، جس میں سے 50 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی تنظیم برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن کے ڈسٹرکٹ منیجر علی شیر ڈاہری سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ٹنڈو آدم نشئی افراد کا مرکز ہے، ایک سرنج سب کو لگانے کے باعث ایڈز کے مرض میں اضافہ ہوا ہے، جسے روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایسی حساس صورتحال کے باوجود پولیس خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔ سماجی تنظیموں نے حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔