کراچی کے لیے الخدمت کا امید افزا اعلان

286

کراچی ڈوب گیا۔ دلدل اور کیچڑ میں لت پت ہے ۔ حکمران بیان بازی میں مصروف ہیں ۔ ایسے میں کراچی میں بار بار خدمت کے لیے میدان میں کھڑے ہونے والے ادارے الخدمت کے صدر عبدالشکور نے ایک نہایت امید افزا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ الخدمت نے حالیہ بارش میں تباہ ہونے والے مکانات کا سروے شروع کر دیا ہے اور تعمیر نو کے لیے تخمینہ لگایا جا رہا ہے ۔ الخدمت کی خدمت کی تاریخ اور بلا امتیاز لوگوں کی خدمت کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عبدالشکور صاحب کا یہ اعلان محض بیان نہیں ہو گا ۔ الخدمت زلزلہ زدگان کے لیے20 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہے ۔ آج تک زلزلہ زدہ علاقوں میں اس کی خدمات جاری ہیں ۔ کراچی کے لوگوں کو پانی میں ڈوبے گلی کوچوں میں بارش کے دوران لوگوں کی مدد کرتے یہ الخدمت کے کارکن نظر بھی آئے ہیں ۔ کسی میڈیا کی جانب سے ستائش کے منتظر نہیں بلکہ اپنے رب سے صلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عبدالشکور نے کراچی پریس کلب میں یہ اعلان کیا اور بتایا کہ ملک بھر میں الخدمت کے پاس25 ہزار رضا کار ہیں اور کراچی میں4ہزار ۔ یوں تو الخدمت کسی سے موازنہ اور مسابقت نہیں کرتی بلکہ اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ملک بھر میں ان25 ہزار رضا کاروں نے جو انقلابی خدمت کی ہے وہ کسی سرکاری فورس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ۔ عبدالشکور نے بتایا کہ الخدمت کے رضاکاروں نے کراچی میں بلا امتیاز ہر علاقے کے لوگوں کی مدد کی ہے ۔ بارش میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور ان کو خوراک پہنچانا بھی ایک بڑا کام تھا ۔ الخدمت کوئی حکومتی ادارہ نہیں اس کے وسائل لوگوں کے چندوں اور امداد پر انحصار کرتے ہیں لیکن بروقت مسائل کے حل کی خواہش اور فہم بھی اللہ کا انعام ہے ۔ الخدمت نے اپنی میت گاڑیوں کو شٹل سروس کے لیے استعمال کیا ۔ سب سے پہلے کشتی سروس شروع کی ۔پمپ لگا کر پانی کی نکاسی کی ، پانی میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالا ۔ غرض الخدمت کے رضا کار ہر جگہ کام کرتے نظر آئے ۔ انہوں نے ان رضا کاروں کو سلام پیش کیا ۔ عبدالشکور صاحب خود بھی پورے ملک میں ریلیف کے سارے کاموں کی نگرانی کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ الخدمت اپنے رب کی رضا کی خاطر اہل کراچی کی خدمت کرتی رہے گی ۔ اب اہل کراچی کو سوچنا ہو گا کہ ان کی خدمت کے لیے ہر دم مستعد الخدمت کے ساتھ وہ کس قدر چل سکتے ہیں ۔ اگر اہل کراچی نے الخدمت کا ساتھ نہ چھوڑا ہوتا تو آج ڈوبے نہیں ہوتے بلکہ ملک کے باقی حصوں کے متاثرین کی مدد کر رہے ہوتے ۔ کراچی تو زلزلوں ، سیلاب ، آفات میں دنیا بھر کے لیے مدد گار ہوتا تھا ۔ یہ کون سی آفت ہے کہ وہ خود مسلسل مسائل کا شکار ہے ۔ ایک ہی راستہ ہے اچھے لوگوں کو آگے لائیں ۔ اچھے نتائج پائیں ۔