محکمہ تعلیم کورنگی کے بدعنوان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

232

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹر سکینڈری و ہائر سکینڈری کراچی اور ڈی ای اوز نے سبجیکٹ اسپیشلسٹ (ماہرمضمون )اساتذہ کو واپس اسکولوں میں بھیجنے کے حوالے سے سندھ حکومت کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ۔ گسٹا مہیسرنے اعلان کیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کیخلاف پٹیشن دائر کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کورنگی میں بااثر اورطاقتور سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والا سبجیکٹ اسپیشلسٹ امتیازاحمد اُنڑ حکومت سندھ اورڈائریکٹر سیکنڈری کراچی کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے اسکول میں بچوں کوپڑھانے کے بجائے ضلع کورنگی ایجوکیشن دفتر میں کام کرنے لگا۔ ڈی ای او کورنگی نے بھی امتیاز اُنڑ کی سرپرستی شروع کر دی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع کورنگی تعلیمی آفس میںامتیاز احمد انڑ3 سال سے بغیر آرڈر کے غیرقانونی طریقے سے کام کررہا ہے اور پوچھنے والوں کو با اثر شخصیات کا خاص آدمی ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسرے ماہرمضمون سبجیکٹ اسپیشلسٹ مشرف علی نے اپنا تبادلہ ٹھٹھہ سے واپس کراچی میں کرالیا۔ مشرف علی نے ٹھٹھہ میں جوائننگ دیے بغیر ہی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرانسفر رکوالیا ۔گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ دفتر میں بیٹھ کر کرپشن کرنے والوںکے خلاف ایکشن لیا جائے ورنہ احتجاج کے ساتھ غلط کام اور کرپٹ لوگوں کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرائیں گے،گسٹا مہیسر نے بدعنوانوںکے خلاف وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری، وزیر تعلیم، سیکرٹری ایجوکیشن اور دیگر اداروں میں کارروائی کیلیے درخواستیں بھی جمع کرادی ہیں۔گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ دفتر میں بیٹھ کر کرپشن کرنے والوںکے خلاف ایکشن لیا جائے ورنہ احتجاج کے ساتھ غلط کام اور کرپٹ لوگوں کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرائیں گے۔