جماعت اسلامی کی دعوت، تربیت، جدوجہد

185

مفکر ِ اسلام مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے 74افراد کے ہمراہ1941میں جس جماعت اسلامی کی بنیاد ڈالی تھی اس کی دعوت آج پوری دنیا میں پھیل چکی ہے،گزشتہ78سال سے جماعت اسلامی تعمیر ِ کردار اور تطہیر ِ افکار کے ذریعے ایسے صالح افراد کی کی تیاری میں مصروف ہے جوCharacter اورCompetency  سے لیس ہوں تاکہ نظام ِ حکومت ایسے افراد کے ہاتھوں میں آئے جو صالحیت اور صلاحیت کے حامل ہوں۔آج معاشرے میں جماعت اسلامی کے تیار کردہ ان گنت ایسے افراد موجود ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے قیام کا مقصداسلامی نظام زندگی کے قیام کے ذریعے رضائے الٰہی اورفلاح اخروی کا حصول ہے۔

جماعت اسلامی کی دعوتی سرگرمیوں میں دروس قرآن، حلقہ ہائے حدیث، اجتماعی مطالعہ جات، اسٹڈی سرکلز، لیکچرز، تربیت گاہیں اور مطالعہ کتب شامل ہیں علاوہ ازیں ہسپتال، ایمبولینسز، کتب خانے، تعلیمی ادارے اور خدمت کے دیگر اداروں کا نیٹ ورک پورے ملک میں قائم ہے۔

جماعت اسلامی، پاکستان کی بہترین منظم سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی واحد سیاسی و مذہبی جماعت ہے جو اپنے اندر مضبوط جمہوری روایات رکھتی ہے۔ پاکستان کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے برعکس جماعت میں موروثی، شخصی، خاندانی یا گروہی سیاست کی کوئی مثال نہیں ملتی اور جماعت اپنے اندر نظم و ضبط، کارکنوں کے اخلاص، جمہوری اقدار اور بدعنوانی سے پاک ہونے کی شہرت رکھنے کے باعث دیگر جماعتوں سے ممتازحیثیت رکھتی ہے۔

جماعت اسلامی نے جہاں ایک جانب بڑے پیمانے پر لوگوں کے اذہان تبدیل کیے ہیں انہیں دین ِ اسلام کی جانب راغب کیا ہے وہیں اس نے عملی سیاست میں حصہ لے کر وطن ِ عزیر کی بے لوث خدمت ہے،جماعت اسلامی سے وابستہ افرادیونین کونسل سے لے کر ایوانِ بالا تک……سیکڑوں مناصب پر فائر رہے لیکن کوئی ان کے دامن پر کرپشن اور بد عنوانی کا ایک داغ تک نہیں دکھا سکتا،کراچی میں عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ دو مرتبہ جماعت اسلامی کی جانب سے میئر شپ کے عہدرے پر فائز رہے،اس میئر شپ کے دوران جماعت اسلامی نے کراچی کی تعمیر و ترقی کا جو کام کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔