سیاسی بنیادوں پر کراچی کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں ،بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں ،حافظ نعیم

111
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کراچی کی تقسیم اور ضلع کا اضافہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا‘ سندھ حکومت کراچی کو تقسیم در تقسیم کر رہی ہے‘ کیماڑی کو ضلع بنا کر کراچی کے وسائل پر قبضہ کرنے اور کراچی کے اصل مسائل سے نظریں ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘کراچی کی آبادی تمام ترسائنسی معیارات کے مطابق ڈھائی سے3 کروڑ ہے لیکن مردم شماری کے مطابق نصف آبادی ظاہر کی گئی ہے‘وفاقی حکومت کراچی کی مردم شماری کیوں ٹھیک نہیں کرتی؟ مردم شماری کے اعداد شمار کے حوالے سے کورٹ سے رجوع کریں گے‘پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پوائنٹ اسکورنگ اور ذاتی مفادات کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی‘بلدیاتی انتخابات فوراً کرائے جائیں‘ کراچی کے تمام محکموں کو بلدیہ کے ماتحت کیا جائے‘ سندھ میں وڈیرے اور جاگیردار غریب ہاریوں اور کسانوں کی رائے کا استحصال کر کے جبری طور پر منتخب ہوتے ہیںاور پھر عددی اکثریت کی بنیاد پر کراچی کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے لیے من پسند ایکٹ پاس کرائے جاتے ہیں‘ یہ مسائل حل کرنے کے اقدامات کے بجائے کرپشن اور لوٹ مارکو مستحکم کرنے کے فیصلے کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، مسلم پرویز، راجا عارف سلطان، ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان، سکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ تینوں حکومتی جماعتوں کے اتحاد سے کراچی کی صورتحال اور پے در پے اقدامات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انہیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں‘ان جماعتوں کو صرف پوائنٹ اسکورنگ سے دلچسپی ہے‘3 دن کی کارکردگی سے اندازہ ہوگیا کہ یہ جماعتیں مسائل کے حل کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اکثریت کی بنیاد پر بل پاس کراکر کراچی کو تقسیم در تقسیم کر رہی ہے جب کہ اس سے قبل ضلع کورنگی کے اضافے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ضلع کیماڑی بنانے سے کیا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی مردم شماری کے لحاظ سے کم ظاہر کی جا رہی ہے‘ اس وقت کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے 3 کروڑ ہے‘ جب صوبائی حکومت آبادی کی تعداد کم ظاہر کرے گی تو اس لحاظ سے شہر کو وسائل بھی کم ہی دیے جائیں گے اور کرپشن جاری رہے گی‘ سندھ حکومت نے ہمیشہ سے کراچی کے محکمے اپنے ماتحت رکھ کر کراچی کے عوام کا استحصال کیا ہے اس لیے کراچی میں جتنے بھی محکمے ہیں‘ ان سب کو بلدیہ کے ماتحت کیے جائیں تا کہ کراچی میں ترقیاتی کام کرائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت جب صوبے کی انتظامی تقسیم کی بات کی جائے تو سندھ حکومت اسے لسانی رنگ دیتی ہے حالانکہ آئین میں اسے تسلیم کرتے ہوئے طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جو ایک جمہوری عمل ہے‘ سندھ حکومت دیہی عوام کا استحصال کرکے عددی اکثریت حاصل کرتی ہے اور عددی اکثریت کے ذریعے پورے سندھ کے عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے گزشتہ 35 سال سے کراچی کے عوام کا استحصال کیا ہے‘ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام اور کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے ٹی سی) کو ایم کیو ایم کے دور میں ختم کیا گیا ‘ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ایم کیو ایم نے نجکاری کرائی‘ کراچی سرکلر ریلوے کا نظام ایم کیو ایم کے دور میں ختم کیا گیا اور ایم کیو ایم سندھ حکومت سے نکل کر اب فرینڈلی اپوزیشن کر رہی ہے اور وفاق میں حکومت میں شامل ہے‘ یہ تینوں جماعتیں سوائے پوائنٹ اسکورنگ اور ذاتی مفادات کے علاوہ کچھ نہیں کر رہیں‘ حکمرانوں کی نیت ہے کہ زیادہ سے زیادہ جمع کرکے کھا ئیں۔