اسکول بند رکھنے کا جواز نہیں‘ 15اگست سے کھولے جائیں‘ حافظ نعیم

117

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ کے تحت مختلف نمائندہ تنظیموں کے مشاورتی اجلاس اوربعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ملک بھر میں سینما، تھیٹرز ، ریسٹورنٹس، سیاحتی مقامات اور شاپنگ مالز بھی کھول دیے گئے ہیں توتمام تعلیمی ادارے بھی 15اگست سے کھولنے کا اعلان کیا جائے ، اب اسکولوں کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ،اگر حکومت نے اس موقع پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی تو جماعت اسلامی اسکولوں کی تنظیموں کے ساتھ کھڑی ہوگی ،جماعت اسلامی کے تحت پرائیویٹ اسکولزکو معاوضہ دینے اور نقصان کے ازالے کے حوالے سے ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا۔اجلاس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، چیئر مین الائنس آف پرائیویٹ اسکولز (سندھ) کے علیم قریشی ، جنرل سیکرٹری حنیف جدون ، پرویز ہارون، فیض احمد فیض ، حیدر علی ، سردار ملک ، شفیق الرحمن عثمانی ، انتصار احمد غوری ،ڈاکٹر ارشد علی خان ، میڈم شہناز الہدیٰ ، اے ڈی سومرو ، غفور خان ایڈووکیٹ ،جہانزیب حسن ، غلام مصطفی سیال، محمودراجا، عبد السلام ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اجلاس میں شاکر شکور نے قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیاگیا کہ وفاقی و صوبائی حکومت 15اگست سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کریں،نجی تعلیمی اداروں کی مالی اعانت کا اعلان کیا جا ئے ،تعلیمی اداروں کی کورونا فنڈز سے خصوصی امداد کی جائے ،اجلاس میں موجود تمام شرکا نے متفقہ طورپر قرارداد کو منظور کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ پرائیویٹ اسکول مالکان حکومت سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، ریاست کی ذمے داری ہے کہ پرائیویٹ اسکولز کی سرپرستی کرے،شہر میں کورونا کے دوران کئی اسکولز بروقت کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں ،حکومت کی طرف سے تمام اسکول اور تعلیمی اداروں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرنا چاہیے،پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ کو کورونا فنڈ سے تنخواہیں دی جائیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کے مسئلے کو سب سے پہلے حل کرنا چاہیے ، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنے والے تیار ہونے چاہئیں،پاکستان کے تعلیمی نظام پر ظلم کیا جارہا ہے، آج ہمارے معاشرے میں طاقت، مرتبے کی بنیاد پر تعلیم کی درجہ بندی کی جارہی ہے،اس لیے جب یکساں نظام تعلیم نہ ہو تو پھر تعلیم ایک پرائیویٹ سیکٹر کی شکل اختیار کرلیتا ہے، حکومت کا کام ہے کہ طلبہ کو مفت تعلیم مہیا کرے،اگر ایک ریاست میں پرائیویٹ اسکولز تعلیم دے ر ہے ہیں تو یہ اسکولز کی جانب سے ریاست پر بہت بڑا احسان ہے، ریاست کسی بھی شعبے میں اپنا فریضہ انجام نہیں دے رہی ہے،ہم الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ سمیت تمام ایسوسی ایشنز کے فیصلے کی مکمل تائید کرتے ہیں،اگر حکومت نجی تعلیمی اداروں کی مالی مدد نہیں کر سکتی تو اس صورت میں تعلیمی اداروں کو بلا سود قرضے فراہم کرے ۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ کراچی تعلیمی اداروں کا مرکز ہے جوحکومتی پالیسی کے نتیجے میں ایک عذاب سے دوچار ہے ، تعلیم کے مسئلے کو سیاسی سطح پر اجاگر کرنے اور تمام اسکول ایسوسی ایشنز کو مشکل کی اس گھڑی میں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرور ت ہے۔ علیم قریشی نے کہاکہ ہم وفاقی وزیرتعلیم کی جانب سے ہونے والی بین الصوبائی تعلیمی کانفرنس کو مسترد کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ 15اگست کو ہر صورت میں اسکول کھولے جائیں گے ،اگر حکومت کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی ۔تمام پرائیویٹ اسکولوں میں 14اگست کو ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے پرچم کشائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ مدارس کے طلبہ نے ایس اوپیز پر عمل کرتے ہوئے بورڈ کا امتحان دیا جسے بی بی سی نے بھی سراہا ،تمام ایسوسی ایشنز آج اس بات پر متفق ہیں کہ 15اگست کو ہر صورت میں اسکول کھولے جائیں گے ۔حنیف جدون نے کہاکہ 15 اگست سے تعلیمی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی ، اگر حکومت نے اسکولوں کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تعلیمی پالیسی ناقابل فہم ہے ،یوں لگتاہے کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ۔