حکومت بتائے کہ کشمیر ریلی پر حملے کے مجرم اب تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے،سراج الحق

349

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بتائیں کہ دودن گزرنے کے باوجود اب تک جماعت اسلامی کی بھارت کے خلاف کشمیر ریلی پر بم حملے کے مجرموں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا،کشمیر ریلی پر حملہ پاکستان اوراسلام دشمنوں کی کارروائی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا لابی ملوث ہے،یہ حملہ کسی فرد واحد نے نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے پوری ایک سازش ہے جس کافائدہ بھارت کو ہوااور نقصان پاکستان کو ہوا،حملے میں 37کارکنان زخمی اور 1کارکن  شہید ہوا،کراچی کے نوجوانوں نے آزادیئ کشمیر کی جدوجہد میں بڑی قربانیاں اور خون دیا ہے،یہ معصوم اور پاک خون کشمیر کی آزادی کا ذریعہ بنے گا،کشمیر ہماری زندگی وموت اور ملک کی بقاء سلامتی کا مسئلہ ہے، حکمرانوں نے کشمیر سے دست بردار ہونے کی کوشش کی تو یہ نظریاتی اور جغرافیائی طور پر موت ثابت ہوگی،مسئلہ کشمیر سے غداری کرنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی،مسئلہ کشمیر پر وفاقی حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے جس پر پوری قوم اور کشمیری بھی ناخوش ہیں،حکمرانوں نے تقریروں کے علاوہ کوئی ایکشن نہیں لیا اورمودی کو کوئی چیلنج نہیں دیا،جدوجہد آزادی کشمیر کی حمایت اور پشتیبانی جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرنائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم،امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امراء کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، مسلم پرویز، راجا عارف سلطان، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ سینیٹر سراج الحق کراچی میں ریلی پر حملہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعدفوری طور پر گزشتہ رات کراچی پہنچنا چاہتے تھے لیکن فلائٹ ملتوی ہونے کی وجہ سے وہ روانہ نہ ہوسکے بعد ازاں بذریعہ سڑک وہ آج کراچی پہنچے ہیں،سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ کراچی کی موجودہ صورتحال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں، ہر حکومت کراچی سے سمیٹنے کی کوشش تو کرتی ہے لیکن شہر کو کچھ دیتی نہیں ہے،وفاقی وصوبائی حکومتیں اور بلدیاتی حکومت نعرے اور دعوے تو بہت کرتی ہیں لیکن عملاً حال یہ ہے کہ بار ش ہوتے ہی شہر کی سڑکیں پانی سے بھر جاتی ہیں،انسان چاند پر قدم رکھ چکا اور اب مریخ کی طرف جارہا ہے لیکن کراچی میں حکمرانوں نے ابھی تک نکاسی آب کا انتظام بہتر طریقے سے نہیں کیا۔وفاقی وصوبائی اور شہری حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات تو لگاتی ہیں لیکن مسائل حل نہیں کرتیں،صوبائی حکومت اور میئر کراچی کہتے ہیں کہ کچرا اٹھانا ان کا کام نہیں، وہ بتائیں کہ ان کاآخر کام کیا ہے؟،سخت گرمی اور شدید حبس کے موسم میں بھی عوام بجلی سے محروم ہیں،تھوڑی سی بارش کے بعد شہر بھر میں بجلی کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سنجیدہ نہیں،پارلیمنٹ میں ہمیشہ ایک ہی قرارداد تاریخ بدل کر پیش کردی جاتی ہے، کشمیری عوام مائیں، بہنیں، بچے اور بزرگ انتظار کررہے ہیں کہ کب پاکستانی حکمران کشمیر کے حوالے سے راست قدام کریں گے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایک مؤثر لائحہ عمل اور روڈ میپ تشکیل دیا جائے،اوآئی سی کا اجلاس آزادی کشمیر کے ایک نکاتی ایجنڈے پر طلب کیا جائے اور اس میں یہ طے کیا جائے کہ جب تک بھارت 5اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا اس سے ہر طرح کی تجارت اور کاروباری تعلقات بند کردیے جائیں گے،وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ مودی کو بغیر ویزے کے نہیں آنے دیں گے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی نے ویزے کی درخواست دی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر رکھ دینے سے کشمیر کی جدوجہد کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا،کشمیر کے نام سے سڑک کو اسی نام سے رہنے دیا جائے،اگر سری نگر ہی نام رکھنا ہے ہمارے کسی اور شہر کا نام سری نگر رکھ دیا جائے۔ہمارے حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ہی مودی کو بعض اسلامی ممالک نے قومی اعزازات سے نوازا ہے،حکمران صرف زبانی جمع خرچ کررہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت نے جو نقشہ جاری کیا ہے یہ نیا نہیں بلکہ پوری قوم اور اہل کشمیر کے ذہنوں میں 1947سے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیری یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان،موجودہ حکومت کے جاری کردہ نقشے میں تو بھارتی فوج بھی موجودہے اور اس کے کیمپ بھی نصب ہیں تو ہماری حکومت کی ذمہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ موجودہ نقشے کے مطابق بھارتی فوج اور ان کے کیمپ کو واپس بھیجا جائے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایماء پر قانون سازی کی گئی جو غلامی کی زنجیروں کو مزید سخت کرنا ہے،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی اس میں خاموش سہولت کارکاکردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی اور اسٹیس کو برقراررکھنے میں یہ ساری پارٹیاں ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سید علی گیلانی،آسیہ انداربی اور پوری کشمیر قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، ہم پوری کشمیری قوم کو سلام اور مبارکباد پیش کرتے ہیں جو بھارتی تسلط کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان کے باڑھ لگائی جارہی تھی تو سید علی گیلانی نے اس موقع پر پاکستان سے اپیل کی تھی کہ یہ باڑھ نہ لگائی جائے لیکن پرویز مشرف نے کہاکہ باڑ ھ لگنے دیں بعد میں دیکھیں گے۔باڑ ھ لگاکر کشمیریوں کے درمیان ایک دیوار برلن بنائی گئی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت یہ باڑ فوری طورپر ہٹائے۔#