اللہ کے محبوب بندے

222

حمادیہ صفدر
کچھ لوگوں کے افعال و اعمال بڑے قابلِ رشک هوتے هیں ۔ان کے اعمال رب کو بڑے پسند آجاتے هیں ۔یہی لوگ رحمان کے بےحدمحبوب لوگوں میں شامل هوجاتے هیں۔
ایسے محبوب هوجاتےهیں کہ تاحیات ان کے عمل کوسنت قرار دے کر تمام عالمِ اسلام کے لیےلازم و ملزوم قراردیاجاتاہے۔
جونہی ذوالحجہ کاآغازہوتاہےتولوگ ان معززاور مکرم ہستیوں کی حیات پر غوروفکرکرتےہیں ۔
جب قرآن کادور کرتے هیں توان کے پر کشش اعمال پر رشک کااظہارکرتےہیں۔
سیّدناابراھیم ؑالله کےوه برگزیده اورمحبوب نبی تھےکہ جنہوں نےاپنی حیاتِ مبارکہ میں اطاعتِ ربّانی کواپناشِعاربنایااورلمحہ لمحہ اپنے رب کی رضاحاصل کی۔
سیّده ہاجرہؑ کاپانی کی تلاش میں بیتابی سے سنگریزوں اور پتھروں پربھاگنا اور ابراهیم ؑکاحکمِ خداوندی کی تعمیل کیلیےسرشاراپنے لختِ جگرکی گردن پر چھری چلانااتناپسندآیا کہ ان اعمال رہتی دنیاتک کے مسلمانوں ( جوصاحبِ مقدرت ہوں )پرفرض کر دیاہرسال مسلمان حرمین شریفین کی زیارت کیلیے مکہ مدینہ تشریف لے جاتے وہاں ادائیگی حج و عمره کے بعد اس سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
عیدقربان کے موقع پر مسلمانوںکےمابین محبت ،پیار ،ایثارورواداری اور اخوت اور آپس میں دعوتوں کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔
ایک دوسرےکی محبت والفت جیسی عادات جنم لیتی ہیں۔
مگر2020ءمیں عیدِقربان ایسے حالات میں آرهی ہے کہ تمام عالم کو کورونا جیسی مہلک وبا نے گھیرا ہوا ہے ۔
جس کے باعث مسلمانوں میں رشتہء اخوت ماند پڑ رہا ہے۔ آپس کے میل جول اور محبت پیار میں پستی آچکی ہے ۔
مسلمانوں کے قلوب میں کورونا کا خوف اس قدر جاگزیں ہو چکا ہے جتنا کہ مسلمان اپنے ربِ سے بھی خوف نهیں کھاتے۔
حالانکہ حقیقت کچھ یوں ہے
کوروناوائرس کی وبا خطرناک ہے اور ایمان لیواہوسکتی ہے ۔
اس سے احتیاط اور حفاظت کیلیے پانچ وقت نماز تلاوتِ قرآن نہایت ضروری هے اور اس کے ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔اس وبا سے بچنے کیلیےوضوسب سے بڑی دوااور زبان کو ذکرِ الٰہی سے معطر رکهنابہت بڑاعلاج ہے۔
اللہ تعالٰی سے دعاہےکہ وہ ہمیں اپنا تقوٰی ،توکّل عطافرمادے۔
اورہمارے ایمانوں کا محافظ بن جائو۔