یقین

168

 تحرير:جہاں آرا
میں اپنی تیاری میں لگی ہوئی تھی-کیونکہ اگلے ہفتے مجھےاورشوہر کو عمرہ پر جانا تھا-بازار کے بھی چکر لگ رہے تھے-“زرا جلدی سے اس سوٹ کو پریس کرو”میں نے زرینہ سے کہا!۔
‘جی باجی لائیں ابھی کردیتی ہوں،وہ جاتے جاتے رک گئی اور مجھے دیکھنے لگی”-کیا بات ہے”میں نے کہا!
‘وہ باجی آپ وہاں جاکر میرے لئے بھی دعاکرنا تاکہ مجھے بھی کعبہ دیکھنا نصیب ہو۔
“تم کہاں سے جاسکتی تمھارے تو گھر کے مسئلے مسائل ہى ختم نہیں ہوتے”میں نےتھکن کے زیر اثر چڑ کر کہا”
‘پر باجی وہاں اللہ سب کی سنتا ہے-“زرینہ نے امید سے کہا
“اچھا اچھا دعا کروں گی”میں نے لاپرواہی سے بولا اور پھر روانگی کا دن بھی آگیا-
وہاں پہنچ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم خانہ کعبہ پہنچ گئے۔اللہ کے گھر کو دیکھ کر پہلےتو ہیبت کی سی کیفیت طاری ہوگئى- پھر ایک روحانی سکون ملا۔اپنا عمرہ مکمل کیا-سب رشتے داروں کے لیے دعائیں کیں- وقت کا پتا بھى نہ چلا ، بہت جلد بیس دن گزر گئے اور ہماری واپسی کا دن آگیا- ہم بہت خوش تھے- ہمیں ایک سعادت نصیب ہوئی-میراارادہ حج پر جانے کا تھا-مگرشوہر صاحب نے کہا ‘ابھی میں عمرے کا انتظام کر پایا ہوں-حج ان شاءاللہ پھر کبھی۔
گھر پہنچتے ہی لوگوں کی آمداور مبارکباد کاسلسلہ شروع ہوگیا-زرینہ بھی آئی ہوئی تھی-وہ مٹھائی اور ہار لے کر آئی تھی-وہ مجھے نہايت عقیدت سے ديکھ رہی تھی-میں نے اسے وہاں کی سوغاتیں دیں اور کچھ اپنے نئے سوٹ دیئے جسے پا کر وہ خوش ہوئی اور مجھے دعائیں دیتى چل دى۔
کچھ دنوں سے زرینہ نہیں آرہی تھی ..اب یہ دن بڑھ کرچارمہینے پر محیط ہوگئے-ميرى تشويش بھى بڑھنے لگى۔ايسا پہلى بار ہوا تھا کہ وہ بغير اطلاع کے چھٹى کرلے۔ایک دن اچانک زرینہ میرے گھر آ ئی-حلیہ يکسر بدلا ہوا تھا۔
“کہاں غائب ہوگئی تھی-کچھ خیر خبر نہیں”میں نے سوال داغا
‘وہ باجی میری بہن جو اندرون سندھ رہتی تھی،اس کا انتقال ہوگیا۔اس نے افسوس ناک خبر سنائى تو ميں اندر ہى اندر خود کوملامت کرنے لگى کہ ميں کيا کيا سوچ بيٹھى تھى
‘مجھے جلدی میں جانا پڑا۔بھانجا دوبئی میں ملازمت کرتا تھا۔ اس کی بڑى خواہش تھى کہ وہ ماں کو حج کروائے مگر قدرت سے بھلا کون لڑ سکتاہے،وہ مسلسل بول رہى تھى
“میں نے اسے صبر کرنے کو کہا تو کہنے لگا کہ خالہ بھی تو ماں کے برابر ہوتی ہے-بس آپ میرے ساتھ حج پر چليں گی۔ميں اس کى خواہش کے آگے کچھ نہ بول سکى اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے”
“باجى يقيناً آپ نے ہی دعا کی ہوگى ورنہ میں غریب اور گناہ گار کہاں اللہ کا گھر دیکھ پاتى…”
وہ متشکر نگاہوں سے ديکھ رہى تھى اور میں شرمندہ کيونکہ مجھے دوران عمرہ ايک بار بھى اس کا خيال نہ آيا تھا-