سرکار پارٹیوں کا دھرنا ختم ہو گیا ‘ کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو ئی، حافظ نعیم

129

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے شہر میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف حکومتی پارٹیوں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا احتجاج اور دھرنا تو ختم ہو گیا لیکن کراچی میں ابھی تک لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو ئی ۔ کراچی کے عوام لوڈ مینجمنٹ کے نام پر آج بھی سخت گرمی اور حبس کے موسم میں10سے 12گھنٹے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ، گورنر سندھ ، وفاقی وزراء اور حکومتی ارکان پارلیمنٹ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے اور وعدے کر رہے ہیں جو مسلسل جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں ۔ اب کے الیکٹرک کی جانب سے اب130میگا واٹ کے بن قاسم پاور پلانٹ میں خرابی کے باعث بند ہونے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاجی دھرنے میں تین دن کا الٹی میٹم دیا تھا ۔ اس دوران وفاقی وزراء اور گورنر سندھ کی جانب سے طفل تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں کیا گیا ۔ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے خلاف عوامی جدو جہد کے حوالے سے بدھ 15جولائی کو پریس کانفرنس میں آئندہ کے اقدامات اور لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے باہر دھرنا دے کر احتجاج کیا جس میں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی اور دھرنا ختم کرنے کے لیے جواز پیش کیا گیا کہ اب کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی مگر وفاقی وزراء اور گورنر سندھ کے دعوے اور وعدے کے مطابق ایسا نہیں ہوا پھر منگل کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے دھرنا دے کر احتجاج کیا اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے بھی شر کت کی ۔ یہ دھرنا اور احتجاج بھی ختم ہو گیا لیکن کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو ئی اور اب کہا جا رہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہونے میں مزید ایک ،دو سال لگیں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حیرت ہے کہ حکمران پارٹیاں پارلیمنٹ کے اندرکے الیکٹرک کے مظالم ، لوٹ مار ،زیادتیوں اور بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف کوئی لائحہ عمل بنانے اور عملی اقدامات کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کر رہی ہیں ۔ ان کا یہ احتجاج مگر مچھ کے آنسو بہانے کے مترادف اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے لیکن حکمران پارٹیاں عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں ۔