نیب نے پیر نورالحق قادری اورحلیم عادل شیخ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا

113

اسلام آباد/کراچی (آن لائن/ اسٹاف رپورٹر) نیب نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب راولپنڈی نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ نیب نے حج اشتہاری مہم میں بے ضابطگیوں کی انکوائری کا فیصلہ کرلیا‘ متعلقہ اداروں سے 2 سال کی حج اشتہاری مہم کا ریکارڈ مانگ لیا‘ سرکاری بلڈنگ بزنس پارٹنر کو کرائے پر دینے کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے‘ اس حوالے سے نیب کو مکمل ریکارڈ مل چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے احکامات پر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ نیب کو شکایت کی گئی تھی کہ نورالحق قادری نے اختیارات کا غلط استعمال کیا تاہم اب نیب کا شکایات سیل نورالحق قادری کے اثاثوں کی بھی مکمل معلومات حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیںرکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی جانب سے ملیر کی253 ایکڑ سرکاری زمین پر غیرقانونی طور پر قبضے اور اس کو بیچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب نے پی ٹی آئی رہنما کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے انکوائری کا آغاز کردیا ہے‘ حلیم عادل شیخ پر الزام کے بعد نیب نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو تمام متعلقہ کاغذات27 جولائی تک نیب میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ نیب لیٹر میں تمام زمینوں کا رقبہ اور پیمائش کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ پر مبینہ منی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ نیب نے خط کے ذریعے حلیم عادل شیخ کے فارم ہائوسز سمیت دیگر دستاویزات بھی طلب کر لیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے قبل اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی حلیم عادل شیخ کے خلاف تحقیقات مکمل کر چکا ہے۔نیب کے مطابق حلیم عادل شیخ نے سرکاری زمین کا کمرشل استعمال کیا تھا۔نیب کی جانب سے خط کے ذریعے ڈی سی ملیر کو 27 جولائی تک تمام ریکارڈ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن سے بھی شواہد طلب کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈپارٹمنٹ اینٹی کرپشن ایسٹ ضمیر عباسی نے گزشتہ برس حلیم عادل شیخ کے خلاف تحقیقات کرکے چیف سیکرٹری سے مقدمے کی اجازت طلب کی تھی‘ ڈپارٹمنٹ اینٹی کرپشن کی رپورٹ میں زمین پر قبضے اور فروخت میں حلیم عادل شیخ، ان کے بڑے بھائی، بیٹے، ڈی سی ملیر اور محکمہ ریونیو کے دیگر افسران کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔