پائلٹ کی جعلی اسناد کی طرح حکومت بھی جعلی ہے، سینیٹر سراج الحق

254

 امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق  کا کہنا ہےکہ یہ جعلی حکومت ہے جس کواب بھی انگلی پکڑ کر چلایا جارہا ہے ، پائلٹ کی جعلی اسناد کی طرح حکومت بھی جعلی ہے۔

دیر پائین میں کورونا کے شہدا کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ یہ حکومت اس قابل نہیں کہ شہادت جیسا عظیم مرتبہ حاصل کرسکے،ہم اس کے حق میں نہیں ہیں،حکمران خود چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوجائے جس کی آڑ میں انہیں فرار کا موقع مل جائے تاکہ آئندہ انتخابات میں یہ دوبارہ قوم کو دھوکہ دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو یقین ہے کہ وہ پانچ سال مکمل نہیں کرسکیں گے ،آج پھر وزیر اعظم کا بیان آیا ہے کہ ان کے پاس صرف پانچ ماہ ہیں۔حکومت نے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ بائیس ماہ میں میٹنگز ،وعدوں اور بریفنگز کے سوا کچھ نہیں کرسکی۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں عوام کے مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی، گالی گلوچ کےلئے نئے نئے الفاظ متعارف کروانے والے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی ایک فیصلہ نہیں کرسکے،حکومت اٹھارویں ترمیم ختم کرکے صوبوں کوجو تھوڑے بہت اختیارات دیئے گئے تھے ان پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ان لوگوں نے مدینہ کی اسلامی ریاست کا مذاق بنایا،جب دوائی ،آٹا ،چینی اور سبزی مہنگی ملتی ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ ہے مدینہ کی ریاست۔اب تو وزراءبھی کہتے ہیں کہ مدینہ کی اسلامی ریاست کا نعرہ لگاکر ہم نے خود کو مشکل میں ڈال لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست اور سودی نظام اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ  موجودہ حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوگیا ہے ۔پہلے لوگ ناجائز کام کیلئے رشوت دیتے تھے اب جائز کام کیلئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے ۔میرٹ کا قتل عام ہورہا ہے ، تبدیلی کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے ۔تبدیلی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ روزانہ بیوروکریسی میں تبدیلیاں کی جائیں۔

     سینیٹرسراج الحق  کا کہنا تھا  کہ سابقہ حکمران پارٹیوں اور موجودہ حکومت میں ایک دو ایشوز کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں، موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کا ایک تسلسل ہے ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا طرز حکمرانی ،کلچر اور آئی ایم ایف کی غلامی سب ایک ہے حتی کہ اسلام آباد میں مندرکی تعمیر پر بھی ان کا ایک ہی موقف ہے ۔