تعلیمی نظام پر سنجیدگی کی ضرورت

186

وفاق اور صوبوں نے تعلیمی ادارے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ستمبر کے پہلے ہفتے میں کھولنے کا فیصلہ کیا جس کو این سی او سی کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا اور این سی او سی نے جمعرات کو تاریخ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ 15 ستمبر کر دیا اور منظوری دے دی۔ یہ منظوری ایس او پیز کی سختی سے پابندی سے مشروط ہو گی۔ این سی او سی نے مدارس اور یونیورسٹیوں کو بھی امتحانات لینے کی اجازت دے دی۔ مزید مشاورت اگست میں ہوگی۔ اگر حالات سازگار نہ ہوئے تو ستمبر میں تعلیمی ادارے نہیں کھولیں گے گویا تعلیمی اداروں کے حوالے سے تلوار لٹکی رہے گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اعلان ملک بھر میں تعلیمی اداروں خصوصاً نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے اسکول، کالج، یونیورسٹیاں کھولنے کے دبائو کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ مطالبات کچھ روز کے لیے ہلکے ہو جائیں گے اور لوگ ستمبر کی تیاریاں شروع کر دیں گے۔ حکمرانوں کے عمومی رویے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگست کے وسط یا آخر میں یہ حکمران ستمبر میں بھی تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا فیصلہ کر لیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دیگر اہم امور کی طرح تعلیم کے معاملے پر بھی حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ پہلے پورے ملک میں آن لائن تعلیم کا شور مچایا گیا لوگ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھے لیکن یہ تاثر دیا گیا کہ 2021ء یا 22ء تک یہی حال رہے گا تو تعلیمی اداروں، نجی اسکولوں اور طلبہ و طالبات کے والدین نے آن لائن تعلیم کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ لاک ڈائون بیروزگاری میں اضافے، مہنگائی میں اضافے، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی روشنی میں دیکھا جائے تو عوام پر ایک اور ظلم کیا گیا حالانکہ یہ تمام اضافے بھی حکومت ہی نے کیے ہیں۔ عام سے اسکول طالب علم کو بھی آن لائن تعلیم کی تیاری کے لیے اوسطاً 12 سے 15 ہزار روپے خرچ کرنے پڑے۔ بعض لوگوں نے اس سے زیادہ خرچ کیے۔ اسکولوں نے اس کام کے لیے اساتذہ کو ٹریننگ دی۔ خود لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ خریدے یا اساتذہ کو اس کام کے لیے کچھ رقم دی۔ یہ مجموعی طور پر پورے ملک میں اربوں روپے بنتے ہیں۔ لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم جیسے بنیادی کام کے بارے میں نہایت غیر سنجیدہ ہیں۔ اب جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ زیادہ خراب ہے اگر مگر کے ساتھ تعلیم نہیں چل سکتی۔ حکومت کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا تو کم ازکم دو سال کے لیے ایک پالیسی کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا۔ کیا لوگوں نے محض دو ماہ کی تعلیم کے لیے اضافی رقم خرچ کی ہے اور کیا یہ یقینی ہے کہ 15 ستمبر سے اسکول کھل جائیں گے۔ وبا اپنی جگہ ہے یا تو اس کی وجہ سے 2021ء کے ستمبر تک تعلیمی ادارے بند کرکے صرف آن لائن تعلیم کا فیصلہ کیا جاتا اور اگلے برس جولائی میں جائزہ لیا جاتا کہ ستمبر میں کیا کرنا ہے۔ رواں اور اگلے بجٹ میں اس مقصد کے لیے فنڈز بھی رکھے جاتے تاکہ اسکول، کالج اور طلبہ کو آسانی ملتی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ معیشت، کشمیر، بنیادی انسانی ضروریات کی طرح تعلیم بھی حکومت کی ترجیحات میں نہیں ہے۔