ـ15 جولائی سے نجی اسکولز نہ کھلے تو احتجاج کرینگے ،پرویز ہارون

147

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق 15جولائی سے صوبے بھر کے نجی تعلیمی ادارے اور مدارس کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کا واضح اعلا ن کرے کیونکہ سعید غنی کے غیر ذمے دارانہ بیانات کی قیمت نجی تعلیمی اداروں کو ادا کرنی پڑی ہے، آج کئی اسکول مالکان بریانی ، فاسٹ فوڈ اور پھل بیچ رہے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسکولز نہ کھلنے کی صورت میں پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی سندھ بھر کے تمام اضلاع میں بھر پور احتجاج کرے گی۔پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی کے رہنما پرویز ہارون نے سندھ بھر سے آئے مختلف تعلیمی تنظیموں کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے مارچ کے آخر میں بند ہوئے مگر حکومت سندھ نے26 فروری سے سندھ بھر کے تعلیمی ادارے بند کیے ہوئے ہیں، پنجاب میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اسکولز 15 اگست سے کھلتے ہیں جبکہ سندھ میں مئی اور جون کی موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد یکم جولائی سے اسکول کھولے جاتے ہیں۔ پنجاب کے وزیر تعلیم نے واضح کہہ دیا ہے کہ وہ پنجاب میں15اگست تک اسکول کھولنے نہیںدیں گے، مگر صوبہ سندھ کے اسکولوں کے لیے یہ بات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کہ سعید غنی پنجاب کے وزیر تعلیم کی پیروی کرتے ہوئے سندھ کے اسکولوں کے لیے بھی اس قسم کے کسی فیصلے کی حمایت کریں یا کوئی پرپوزل دیں، پہلے ہی سندھ کے اسکول پنجاب سے ایک ماہ پہلے بند ہوئے ہیں۔ اس قسم کے کسی بھی غیر دانشمندانہ فیصلے کی ہم پر زور مذمت کریں گے۔ اگر سعید غنی نے پنجاب کے وزیر تعلیم کو فالو کرنے کی کوشش کی توہم ان کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ اسکولز نہ کھلنے کی صورت میں پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی سندھ بھر کے تمام اضلاع میں بھر پور احتجاج کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام بھی اس ملک کا حصہ ہیں، ان کے لیے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے ، نجی تعلیمی اداروں کے لیے فوری طور پر سندھ بینک سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر آسان اور بلا سود قرضہ کا اعلان کیا جائے تاکہ اسکول مالکان بلڈنگوں کا کرایہ ادا کر سکیں۔
پرویز ہارون نے مزید کہا کہ جس ملک میں لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی اور پینے کو صاف پانی نہ ہو، اس ملک میں آن لائن ایجوکیشن ایک ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں، خدارا آن لائن کے نام پر اس صوبے کے وسائل کو اور ضائع نہ کریں۔