وزار ت پورٹ اینڈ شپنگ میں اربوں کی کرپشن( پیپلزپارٹی کا وائٹ پیپرلانے کا اعلان)

204

کراچی(صباح نیوز)وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں اربوں کی کرپشن۔پیپلز پارٹی کا وائٹ پیپر لانے کا اعلان۔تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ جلد وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں ہونے والی اربوں کے کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے فلور پر جھوٹی اور من گھڑت جے آئی ٹی رپورٹ لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزام لگانے والے اوزیر کو حقیقی جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ان ارکان اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ علی زیدی کو کھلا چیلنج دیتا ہوں کہ وہ کسی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں میرے مدمقابل آئیں اور مجھ سے مناظرہ کریں تو انہیں تمام حقائق کا پتا چل جائے گا۔ قومی اسمبلی میں اسپیکر کا رویہ جانبدارانہ ہے، اس کے خلاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا سوچ رہی ہے۔حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے اور عوام کو مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں رہنمائوں نے ہفتہ کے روز کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے وزراء کے مطالبے پرعزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کو ظاہر کردیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کچھ روز قبل پی ٹی آئی کے ایک وزیر جن کا کام صرف جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگانا ہے نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر ایک جھوٹی جے آئی ٹی رپورٹ ایوان میں لہرا لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ہمارے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزامات عائد کئے۔ انہوںنے کہا کہ مذکورہ جے آئی ٹی میں ہمارے کسی رکن کا نام نہیں اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ مجھ پر الزام لگائے گئے اور پولیس افسر کی توسط سے میرے بھائی کا نام استعمال کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ کسی پولیس افسر کا کام رپورٹ بنانا نہیں ایف آئی آر داخل کرنا ہوتا ہے اور گرفتاری کی جاتی ہے اور اگر ایسا افسر کارروائی نہیں کرتا تو وہ یا تو بزدل ہے یا ان فٹ ہے۔ انہوںنے کہا کہ ماضی میں بھی اس جھوٹے وزیر نے سندھ حکومت پرصنعتیں کھولنے پر پیسے لگانے کا الزام لگایا۔ہم نے الزام لگانے پر ثابت کرنے کا مطالبہ کیا اور چیئرمین کے پی ٹی کو بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ چیئرمین کے پی ٹی کا نام سنتے ہی ان کو نجانے کیوں آگ لگتی ہے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ جب میں لندن میں تھا تو اس دوران رینجرز کا خط موصول ہوا عزیر بلوچ کے کیس میں سوال کرنے تھے۔ رینجرز نے تحقیقات یا جواب کے لیے طلب کیا۔واپس لوٹا تو رینجرز کے تمام جواب دیے۔ رینجرز نے کلیئر کردیا۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی میں نہیں بولنے دیا جاتا تو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زبان بندی کردیں گے لیکن ہم اب خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہم جلد ہی محکمہ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت پر وائٹ پیپر شائع کریں گے اور ان کی اربوں روپے کی کرپشن کو نے نقاب کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ 24لاکھ روپے سے علی زیدی نے کے پی ٹی میں اپنا آفس بنایا ہوا ہے۔ 20 لاکھ روپے اس گھر پر خرچ کیے گئے ہیں جسے اس نے کرایہ کا ظاہر کیا ہوا ہے اور اس کے باہر کنٹینر بھی لگایا جس کا خرچہ کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر داخلہ کے علاوہ کسی کو بھی نیول کا حاضر سروس افسر اے ڈی سی لگانے کا اختیار نہیں ہے لیکن علی زیدی نے نیول کے ایک حاضر سروس افسر کو اے ڈی سی تعینات کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین کے پی ٹی اور اس کے مابین70 ملین کا ایک ایم او یو مخالفت کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ یہ ایک کمپنی سے 12 ملین کی بجائے 70ملین کا معاہدہ کرنے پر بضد ہیں جو 10 سال میں کام مکمل کرے گی جبکہ 12 ملین کے معاہدے میں ایک سال میں کام مکمل ہونا ہے۔ انہوںنے کہا کہ علی زیدی بتائیں کہ دو سال سے ویسٹ وہارف میں لیز پر پابندی ہے تو پلاٹ نمبر 16کی کس طرح لیز کی گئی۔کے پی ٹی کے بورڈ ممبر کون ہیں ؟معیار کیا ہیں؟ مقرر کیوں کیے گئے اس پر بھی تحقیقات کیوں نہیں کی جاتی۔ برتھ نمبر چودہ سے سترہ تک کون سی کمپنی مستفید ہورہی ہے ؟کس کا بھائی اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟۔ کلین کراچی کے نام کروڑوں روپے لیے گئے نہ آڈٹ ہے نہ رولز فالوو ہوئے۔ایک این جی او سے کام کروایا گیا اس میں کون سی خاتون تھیں ان کو کیا فائدہ دیا گیا؟۔انہوںنے کہا کہ کے پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کرانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ جو اختیار بورڈ کے ہیں ان کومنتقل کیا جاسکے۔ قادر پٹیل نے مزید کہا کہ نیب نے جب اربوں کی کرپشن کا نوٹس دیا تو علی زیدی چیئرمین نیب سے ملاقات کرنے چلے گئے،کیا چیئرمین نیب اپوزیشن سے ملیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے بعد یہ حرام جانور کی بجائے پورا حرام جانور کھا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ الزامات میں نہیں لگارہا بلکہ یہ الزام کے پی ٹی کی یونین نے لگائے ہیں اور اس تمام کے شواہد بھی انہوںنے نیب کو فراہم کیے ہیں۔ ایک سوال پر قادر پٹیل نے کہا کہ مجھ پر اسمبلی میں الزام لگایا گیا اس پر میری تو تحریک استحقاق بنتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ علی زیدی جب تقریر کرتے ہیں تو علامہ اور مولانا بھی سامنے آجاتے ہیں۔ قادر پٹیل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کا رویہ جارہا نہ اور جانبدارانہ ہوتا جارہا ہے اس لیے ہم جلد اسپیکر کے خلاف تھریک عدم اعتماد لائیں گے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں شدید گرمی ہے اور کے الیکٹرک اس وقت زیادتی کررہی ہے۔ ریحام خان نے عمران خان کے دونوں الیکشن کے ساٹھ فیصد اخراجات ادا کرنے والے کا نام ظاہر کردیا ہے اور وہ عارف نقوی ہیں، جو اس وقت کے الیکٹرک کے مالکان میں سے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی ہے۔ آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور غریبوں کو بجلی سے محروم کررہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ کیا کراچی واٹر بورڈ اگر بل نہ ملنے پر لوگوں کو پیاسا مارے تو عوام خاموش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ضرورت ہے آسائش نہیں ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے اور عوام کو مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔