راہِ حق میں صحابیاتؓ کا کردار

160

اُم حسن
ماں ایسی بھی ہوتی ہے
سیدہ خنساءؓ عرب کی مشہور مرثیہ گوشاعرہ تھیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں جنگ قادسیہ لڑی گئی تو آپ اپنے چاروں جوان بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئیں اور اپنے بیٹوں کو دشمن فوج کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے کی نصیحت کی۔ آپ کے بیٹوں نے ماں سے کیے گئے وعدے کی لاج نبھائی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک چاروں شہید ہوگئے۔جب آپ کو بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا: اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تونے میرے بیٹوں کو شہادت کا درجہ عطا فرمایا۔ مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ اپنے بچوں سے اللہ کی رحمت کے سائے تلے ملاقات کروں گی۔
خاموش مبلغہ
اعلیٰ کردار تبلیغ کا موثر ذریعہ ہے، اسی کردار کو دیکھ کر بہت سے صحابہ کرام دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، جیسے:سیدنا عمر فاروقؓ اپنی بہن کے جذبہ ایمانی سے متاثر ہوکر اسلام لائے۔
سیدنا عمرؓ کو اطلاع ملی کہ ان کی بہن فاطمہ بنت خطابؓ نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ سنتے ہی غصے میں بھرے بہن کے گھر پہنچے، بہن اور بہنوئی نے سیدنا عمرؓ کی آواز سنی تو قرآن پاک کے اوراق، جن کی تلاوت کر رہے تھے، چھپا کر دروازہ کھول دیا۔ آتے ہی پوچھا کیا پڑھ رہی تھیں؟ بہن نے پوچھا کیوں؟ کہا: مجھے علم ہوچکا ہے کہ تم نے باپ دادا کے دین کو ترک کر کے محمد کے دین کو اختیار کر لیا ہے۔ یہ کہہ کر بہنوئی کو پیٹنا شروع کردیا۔ جب بہن چھڑانے آئیں تو انہیں بھی اس قدر مارا کہ سر پھٹ گیا۔ بہن نے کہا: عمر جو دل میں آئے کرو، بے شک! میں مسلمان ہوچکی ہوں، جان سے ماردو گے تو بھی اسلام نہیں چھوڑوں گی۔ بہن کے جذبے نے عمرؓ کے دل کو گھائل کر دیا۔ کہنے لگے: مجھے دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے۔ بہن نے کہا: پہلے غسل کرو، پھر اس مقدس چیز کو ہاتھ لگانا۔ سیدنا عمرؓ نے غسل کیا، تو سیدہ فاطمہؓ نے سورہء طٰہٰ کے اوراق نکال کر ان کے حوالے کیے، پڑھا تو وجد طاری ہوگیا، بے اختیار پکار اٹھے یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ وہاں سے اٹھ کر سیدھے دارِ ارقم پہنچے۔ دروازہ اندر سے بند تھا، دستک دی، اندر سے پوچھا گیا کون ہے؟ جواب دیا: عمر بن خطاب۔ یہ سن کر اندر خاموشی چھا گئی کہ خدا خیر کرے۔ سیدنا حمزہؓ نے فرمایا: دروازہ کھول دو، اگر اسلام قبول کرنے آیا ہے تو بسم اللہ، ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سر اڑادیا جائے گا۔ سیدنا عمر نے جیسے ہی اندر قدم رکھا، نبی اکرمؐ نے فرمایا: عمر! کب تک لڑتے رہو گے؟ آؤ مسلمان ہوجاؤ۔ سیدنا عمرؓ نے فوراً کہا: ’’اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمداً رسول اللہ‘‘ یہ سنتے ہی نہ صرف حاضرین، بلکہ خود آپؐ اس قدر خوش ہوئے کہ زبان مبارک سے اللہ اکبر کا نعرہ نکل گیا۔
انوکھی میزبان
سیدہ ام شریکؓ ایک دولت مند خاتون تھیں۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لانے والوں میں اکثریت کا تعلق غریب طبقے سے تھا، لیکن آپ مالدار ہونے کے باوجود ایمان لائیں، اپنی دولت اسلام کے لیے وقف کی اور خود مصائب و آلام کی زندگی گزاری۔آپ نو مسلم افراد کو پناہ دیتیں اور خفیہ طور پر عورتوں میں تبلیغ کرتی تھیں۔ آپ کی دینی سرگرمیوں کا علم آپ کے قبیلے کو ہوا تو انہوں نے آپ پر بے پناہ تشدد شروع کردیا۔ آپ کو سخت گرمیوں کی دھوپ میں باہر باندھ کر کھڑا رکھتے، کھانے کو روٹی پر شہد لگا کر دیتے، تاکہ خوب پیاس لگے، جب پانی مانگتیں تو کئی کئی وقت پانی نہیں پلاتے۔ ایک مرتبہ آپ کو اتنا مارا کہ کئی دن تک بے ہوش رہیں۔ بالآخر آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا۔ مدینہ منورہ ہجرت فرما کر آپ نے دوبارہ اپنے گھر کو مسلمانوں کا مہمان خانہ بنادیا، جہاں وہ ٹھہرتے بھی تھے اور دین بھی سیکھتے تھے۔
صحابیاتؓ نے خواتین ہو کر راہِ حق میں جو کردار ادا کیا وہ لاکھوں مرد مل کر نہ کرسکے۔ دین اسلام کی نشرو اشاعت میں اور دین اسلام کے احکامات پر استقامت سے جمے رہنے کے لیے انہوں نے وہ ظلم و ستم برداشت کیے کہ آج کے مردوں کی ہمت مردانہ ان کے آگے شرم سار ہے۔
پیاری بہنو اور محترم ماؤ! ان خواتین کی ہمت دلیرانہ ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے راہِ حق میں ہمارا ہر قدم تیز گام اور ثابت قدم ہو، کیوں کہ ہمیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے آگے سرخ رو بھی تو ہونا ہے۔