گردوں میں پتھری: معلومات مع علاج

1432

گردوں میں پتھری جنہیں انگریزی میں Kidney stones کہا جاتا ہے، دراصل پتھر نہیں ہوتے بلکہ یہ اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب آپ کے جسم میں معدنیات کی مقدار حد سے تجاوز کرجائے اور اُس کو حل کرنے کیلئے آپ کے جسم میں اتنا مایع نہ ہو۔ جب آپ پیشاب کرتے ہیں تو ٹھوس شکل میں یہ باہر نکلتے ہیں اور پتھر کی ساخت کیطرح دکھائی دیتے ہیں۔

گردوں میں جمع ہونے والے یہ ٹھوس مادے عام طور پر مکئی کے یا نمک کے دانوں کے سائز کے ہوتے ہیں۔

پتھری کی رنگت بھوری یا پیلی ہوسکتی ہے جبکہ سطح ہموار یا کھردری ہوتی ہے۔ مرد اور خواتین دونوں کو یہ عارضہ لاحق ہوسکتا ہے لیکن خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اسباب:

Kidney stones کی وجہ معلوم کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے لیکن عام طور پر یہ اسی وقت بنتے ہیں جب متاثرہ شخص پانی کا استعمال بہت کم کرتا ہے جسکی وجہ سے پیشاب میں بعض معدنیات کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ معدنات عام طور پر:

1) کیلشیم

2) آکزیلیٹ (Oxilate)

3) اور یورک ایسڈ (Uric acid) ہوتے ہیں۔

دیگر وجوہات میں خوراک، اسہال، موٹاپا، مخصوص طبی حالت یا ادویات یا پھر اس عارضے کا موروثی ہونا ہے۔

اقسام:

1) کیلشیم پتھری (Calcium stones): یہ سب سے زیادہ عام ہے۔ ایسے کھانے جن میں Oxalate بہت زیادہ پایا جاتا ہے یا وافر مقدار مین وٹامن ڈی لینا فرد کو عارضے کی اس قسم میں مبتلا کرسکتا ہے۔ پانی کم پینا اور زیادہ پسینہ آنا بھی اس عارضے کی وجہ بن سکتا ہے۔

2) سسٹین پتھری (Cystine stones): یہ قسم عام نہیں ہے تاہم ایک بار جب آپ کو سسٹین پتھری ہوجائے تو دوبارہ اس کے لاحق ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس قسم کی پتھری ہونے کیلئے آپ کے والدین کی جینیات میں ایک ہی قسم کا تغیر پزیر ہونا لازمی ہے۔

3) اسٹرووائٹ پتھری (Struvite stones): مخصوص انفیکشن بالخصوص پیشاب کی نالی میں، آپ کو اس قسم کی پتھری میں مبتلا کرسکتا ہے۔

4) یورک ایسڈ (Uric acid stones): اپنی خوراک میں Animals protein  کا زیادہ استعمال آپ کے پیشاب میں موجود Uric acid کی مقدار کو کافی حد تک بڑھا سکتا ہے جو کہ بالآخر گردے میں پتھری کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کے علاوہ اسہال، شوگر اور گٹھیا بھی اس مرض میں شدت پیدا کرسکتے ہیں۔

علامات:

1۔ کمر، پہلوؤں اور پسلیوں کے نیچے  شدید درد۔

2۔ ناف کے نچلے حصے اور رانوں کے درمیان درد۔

3۔ درد کی وقتاً فوقتاً شدید اور کم لہریں اٹھنا۔

4۔ پیشاب کرتے وقت تکلیف ہونا

5۔ پیشاب میں بدبو آنا اور اُس کی رنگت ہلکی سرخ یا بھوری ہونا

6۔ بار بار پیشاب کا احساس ہونا لیکن جب بیت الخلاء جائیں تو کم آنا۔

7۔ انفیکشن ہو تو بخار ہونا۔

علاج:

شاک ویو لیتھو ٹریپسی Shock wave lithotripsy: امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں گردوں کی پتھری کا یہ سب سے عام علاج ہے۔ اس میں جھٹکے کی لہروں کو استعمال کیا جاتا ہے جو پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیتی ہیں اور پھر وہ باآسانی پیشاب کے ذریعے نکل جاتے ہیں۔

یوریٹرکوپی Ureteroscopy: اس میں ڈاکٹر مریض کی جِلد کو کاٹے بغیر پتھروں کو ڈھونڈنے اور نکالنے کے لئے ایک پتلی ، لچکدار ٹیوب کا استعمال کرتا ہے۔ مریض کو اس عمل کے دوران سلا دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اس ٹیوب کو گردے میں داخل کردیتا ہے گا جس کے ساتھ گردے میں موجود چھوٹے پتھروں کو دور کرنے کے لئے ایک چھوٹی ٹوکری منسلک ہوتی ہے۔ اگر پتھر بڑے ہوتے ہیں تو ڈاکٹر ان کو توڑنے کے لئیے ٹیوب کے دائرہ کار سے ایک لیزر گزارتا ہے جس سے بڑے پتھر توٹ جاتے ہیں۔ عام طور پر مریض اُسے دن شفایاب ہوکر اپھے گھر چلا جاتا ہے۔

سرجری Surgery: گردے میں پتھری سے چھٹکارا پانے کیلئے دوسرا طریقہ سرجری ہے۔ اس میں آپ کی پیٹھ سے گردے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر کے پتھری کو نکالا جاتا ہے تاہم اس عمل کے بعد آپ کو کئی دن اسپتال میں رہنا پڑ سکتا ہے۔