احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے کوروناتیزی سے پھیلتا جا رہا ہے‘وزیراعلیٰ سندھ

69

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا براہ راست ذمہ دار قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت کرلیا جاتا تو صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی۔احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے سے کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیر سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ اور پھر وزیراعظم کی جانب سے لاک ڈاؤن کے خلاف ملے جلے پیغامات آنا شروع ہوگئے لہذا ہم لاک ڈاؤن کے نتائج حاصل نہیں کرسکے۔سندھ اسمبلی میں کورونا وائرس سے متعلق بحث کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس تفتان سے آنے والے زائرین سے نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے لوگوں سے پھیلا۔مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے 27 ہیلتھ ورکرز اور 7 پولیس اہلکاروں کے لیے دعا کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 26 فروری کو وہ چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف زرداری کے ساتھ بیٹھے تھے جب وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے فون کال پر کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص سے آگاہ کیا۔ 27 فروری کو وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی ہدایت پر اسکولز 2 روز کے لیے بند کردیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگلے روز یعنی 27 فروری سے اس حوالے سے اجلاس کا آغاز کیا اور گزشتہ روز تک ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو 101 روز ہوگئے تھے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 27 مئی کو ہونے والے اجلاس میں محکمہ صحت نے بتایا تھا کہ کراچی میں صرف 16 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں جس کے بعد ڈاکٹر عبدالباری کو سندھ حکومت کے لیے وینٹی لیٹرز کی خریداری کی درخواست کی تھی کیونکہ حکومت کا خریداری کا طریقہ کار بہت طویل تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز کی ضرورت تھی، ہم انتظار نہیں کرسکتے تھے اور پھر ہم نے ان کی خریداری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، اس طرح ہم نے خریداری کا آغاز کیا اور نجی شعبے سے لوگوں کو شامل کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ابتدائی سطح پر 80 ٹیسٹ کی صلاحیت تھی جو اب 7 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت 80 فیصد ٹیسٹ سندھ حکومت کی جانب سے کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت ملک میں سندھ کے پاس ٹیسٹ کی بہتر اور سب سے زیادہ صلاحیت ہے، جو اس صوبے سے بھی زیادہ ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گزشتہ 7 برس تک حکومت کی۔انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ پھر بھی پی ٹی آئی کے رہنما پوچھتے ہیں کہ سندھ حکومت نے اب تک کیا کیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب صوبائی حکومت نے راشن کی تقسیم کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے ڈیٹا حاصل کرنا چاہا تو حکام نے تقسیم میں تاخیر کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ شفاف طریقے سے راشن تقسیم کیا اور یہ گزرتے وقت کے ساتھ ثابت ہوگا۔