امریکی خاتون کو 9 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس

330

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر الزامات لگانے والی امریکی خاتون سینتھیا رچی کو جسٹس آف پیس کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں مقیم امریکی شہری سینتھیا رچی کو 9 جون کو جسٹس آف پیس کے سامنے پیش ہونےکا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے سائبر کرائمز اور پی ٹی اے حکام کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے سینتھیا کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر سیشن جج کو درخواست دی تھی۔

شکیل عباسی کا کہنا ہے کہ میری درخواست پر سینتھا رچی، فیڈرل انویسٹی گیشن (ایف آئی اے) اور ایس ایس پی اسلام آباد کو طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے مقدمہ درج نہ کیا، اس لیے 22 اے کے تحت عدالت سے رجوع کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر الزامات لگائے ہیں۔

سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر زیادتی کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔

امریکی خاتون سنتھیا رچی نے الزام لگایا کہ رحمٰن ملک نے انہیں 2011ء میں زیادتی کا نشانہ بنایا جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور رحمٰن ملک وزیرِ داخلہ کے عہدے پر فائز تھے۔

امریکی شہری نے سابق وزيرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی دست درازی کا الزام عائد کیا ہے۔

سنتھیا رچی نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے ان سے تب دست درازی کی جب وہ ایوانِ صدر میں مقیم تھے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے الزامات عائد کرنے پر سنتھیا رچی کے خلاف ہتھک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سنتھیا رچی نے بےبنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ کو مجروح کی، خاتون کے خلاف پاکستان اور امریکا میں ہتھک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ سنتھیارچی نے بختاور بھٹو پر بھی بے بنیاد الزامات عائد کیے جس ہم نے کو نظر انداز کیا، انہوں نے بینظیر بھٹو کےخلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس سےجذبات مجروح ہوئے، پیپلزپارٹی کی جانب سے دیے جانے والے شدید ردعمل اور ایف آئی اے میں طلبی پرسنتھیا نے بےبنیاد الزام لگایا۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ’بطور وزیر اعظم سنتھیا سے کوئی ملاقات نہیں کی، وفود سےکی گئی ملاقاتوں میں سنتھیاموجود تھیں تو علم نہیں، امریکی خاتون سے پہلی اور آخری ملاقات 2019میں سفارت کار کےگھر پر ہوئی جس میں جلیل عباس جیلانی اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔