پانچ منٹ میں کورونا کارزلٹ دینے والی ڈیوائس کے موجد پاکستانی سائنسدان کے چرچے

250

جمیل شیخ کی ایجاد کردہ یہ ٹیسٹنگ ڈیوائس ایبٹ کمپنی لیبارٹریزنے متعارف کرایا ہے جس سیوائرس کی تشخیص صرف پانچ منٹ میں ہوسکتی ہے۔ کمپنی یکم اپریل سے روزانہ پچاس ہزار ٹیسٹ کٹس مہیا کرے گی۔ یہ ٹیسٹنگ کٹ آئندہ چند ہفتوں میں دنیا بھرمیں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی ۔آج کل پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں، میڈیا پر پانچ منٹ میں کرونا ٹیسٹ کرنے والی جس امریکی ڈیوائس لا ذکر ہو رہا وہ ڈیوائس امریکا میں مقیم پاکستانی سائنسدان جمیل شیخ نے بنائی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اس کا افتتاح کریں گے۔ کل اس کرونا لیب ٹیسٹ ڈیوائس کو امریکی سرکاری ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے منظور کر لیا ہے۔
دنیا میں اس وقت سے زیادہ جس کی ضرورت ہے وہ ہے کرونا وائرس کی تلاش اور اس کا علاج۔ کرونا وائرس کی تلاش کے سلسلے میں پوری دنیا میں ایک ڈیوائس کا ذکر ہو رہا ہے جو امریکا میں بنی ہے اور اس سے پانچ منٹ کے اندر مریض کی کرونا ٹیسٹ ہو جائے گی۔ یہ کرونا لیب ٹیسٹ ڈیوائس پوری دنیا میں میڈیا پر دکھائی جا رہی ہے۔
جمیل شیخ کا تعلق سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر باڈھ سے ہے اور وہ اس وقت امریکا کے شہر سان ڈیاگو میں مقیم ہیں۔ کراچی کے این جے وی اسکول سے میٹرک، دہلی کالج سے انٹر اور این ای ڈی یونیورسٹی سے ان کی گریجویشن ہے۔
جمیل شیخ کی ایجاد کردہ یہ ٹیسٹنگ ڈیوائس ایبٹ کمپنی لیبارٹریزنے متعارف کرایا ہے جس سے وائرس کی تشخیص صرف پانچ منٹ میں ہوسکتی ہے۔ کمپنی یکم اپریل سے روزانہ پچاس ہزار ٹیسٹ کٹس مہیا کرے گی۔ یہ ٹیسٹنگ کٹ آئندہ چند ہفتوں میں دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی۔ڈیاگنوسس ڈیوائس فرام سان ڈیاگو نامی پراجیکٹ، خالصتاً جمیل شیخ کا پراجیکٹ ہے امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اسے اسی نام سے رجسٹر کیا ہے۔ جمیل شیخ، امریکا اور کینیڈا میں کام کرنے والی ایک جرمن کمپنی میں انجنئر ہیں جو میڈیکل انسٹرومنٹ بناتی ہے۔ اور یہ ڈیوائس خالصتاً ان کا پراجیکٹ ہے۔ جو انھوں نے ڈیزئین کر کے، فارماسوٹیکل کمپنی ایبٹ کو دیا ہے۔