جون‘ جولائی میںسمندری شکار پر پابندی ختم ہونے کا امکان

29

کراچی (نمائندہ جسارت)کراچی سمیت سندھ بھر کے ماہی گیروں کے لیے اچھی خبر ہے کہ جون، جولائی میں شکار پر پابندی ختم ہونے کا امکان ہے،محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز سندھ نے تمام اسٹاک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کرلیا ہے۔محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز سندھ نے سمندر میں شکار پر2 ماہ کی پابندی سے متعلق اجلاس طلب کرلیا جس میں جون، جولائی کے مہینے میں سمندر میں شکار پر پابندی کے
حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق سمندری حیات کی افزائش پر ہر سال مذکورہ مہینوں میں شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی حافظ عبدالبر کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں اور ایکسپورٹرز کی جانب سے بھی پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ جون، جولائی میں شکار پر پابندی ختم کرنے سے متعلق فیصلے پرنظر ثانی کی جائے کیونکہ رواں برس مسلسل 2ماہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے فشری بندرہا جس کی وجہ سے لاکھوں ماہی گیر فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور اگر مچھلی کے شکار پرجون،جولائی میں پابندی لگی تو ماہی گیر بھوک و بدحالی کا شکار ہوںگے۔ان کا کہنا تھا کہ سمندری حیات سے ماہی گیر سالانہ ملک کو اربوں روپے زرمبادلہ کے طور پر کما کر دے رہے ہیں۔امید ہے کہ کراچی میں2جون کو منعقدہ اجلاس میں ماہی گیروں کے حق میں فیصلہ ہوگا۔