پاکستان اسٹیل میں برطرفی نہیں ہوگی،شدید احتجاج کا خدشہ ہے

95

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹیل مل اسٹیک ہولڈرز گروپ نے ادارے سے 9350 ملازمین کی ممکنہ برطرفی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت بحالی اور ادارے کی سیکورٹی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدام کے نتیجے میںاسٹیل مل میںملازمین کے شدید احتجاج کا خدشہ ہے جو کہ تحریک کی شکل بھی اختیارکرسکتا ہے ۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے کنوینرممریز خان کی جانب سے اس ضمن میںوزارت صنعت و پیداوار اور وزارت نجکاری کو ایک ہنگامی خط لکھا گیا ہے جس میںکیا گیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میںاسٹیل مل کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی فیصلے سے قبل اسٹیک ہولڈرز گروپ کو ملاقات کا وقت دیا جائے اور ادارے کے تمام شراکت داروں کو ایک ساتھ بٹھا کر ہی ادارے کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کا فیصلہ کیا جائے ۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر پیشہ ور انتظامیہ کسی طور پر بھی ادارے کی بحالی یا نجکاری کیلئے معاملات طے کرنے کی اہل نہیںہے ،پاکستا ن تحریک انصاف کے دور حکومت میںاسٹیل مل کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری عبدالرزاق داؤد اور ان کی منتخب کردہ ٹیم پر عائد ہوتی ہے اور ان سب کا مکمل اور شفاف احتساب ہونا چاہیئے ،ادارے کے بورڈ چیئرمین کیلئے غیر ملکی شہری کو لاکر انہیںذمہ داری سونپی گئی جبکہ تمام تر نئی بھرتیاں بد نیتی اور اقرباء پروری کی بنیاد پر کی گئیں،ادارے کے معاملات کو ایڈ ہاک ازم اور روازنہ کی بنیاد پر اسلام آباد اور لاہور سے چلایا جارہا ہے ،ادارے کے بورڈ میںکوئی ایک فرد بھی اسٹیل انڈسٹری سے متعلق قابلیت اور معلومات نہیں رکھتا ہے ،اب ادارے کی سیکورٹی کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے ،اسٹیل مل ایک حساس ادارہ اور قومی اثاثہ ہے ،لہذا اس کی حفاظت کی ذمہ داری کسی بھی نجی سیکورٹی کمپنی کے حوالے کیسے کی جاسکتی ہے۔