کراچی کویومیہ65 ایم جی پانی کی فراہمی کا منصوبہ تاخیر کاشکار

160

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) کراچی کو اضافی 65 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کے منصوبے میں غیر معمولی تاخیر ، اس کی لاگت میں 6 ارب ( 100 فیصد ) اضافے کے باوجود اسے ایک بار شروع کرانے کے لیے حکومت سندھ نے اسی پروجیکٹ ڈائریکٹر کو دوبارہ تعینات کردیا ہے جسے عدالت عظمیٰ کے حکم پر عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے بارے میں سابق چیئرپرسن پلاننگ کمیشن ناہید شاہ نے منصوبے کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے کسی تیسرے ادارے کی مدد سے جانچ کرانے کی ہدایت کی تھی۔ خیال رہے کہ مئی 2015ء میں مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے نہ صرف پی سی ون منظور کیا گیا تھا جس کی لاگت 5 ارب 97 کروڑ تھی۔ مگر یہ منصوبہ 18 ماہ میں مکمل ہوناتھا،تاحال مکمل نہ ہوسکا جبکہ اس کی مجموعی لاگت 100فیصد اضافے کے بعد اب 11 ارب 16 کروڑ 57 لاکھ روپے ہوچکی۔اس دوران اس پروجیکٹ پر2 انجینئر 2،2مرتبہ خدمات انجام دینے میں ناکامی پر تبدیل کیے جاچکے ہیں،حکومت نے اب تیسری مرتبہ انجینئر ظفر پلیجو کو پھر پی ڈی مقرر کرکے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔2017ء میں اس پروجیکٹ میں آنے والی دشواریوں کے بعد ایک پی ڈی نے اسے ختم کرنے کی بھی سفارش کی تھی کیونکہ منصوبے کے ڈیزائن ورک اور دیگر میں بے انتہا نقائص تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نامکمل پروجیکٹ پر اب تک تقریبا 2ارب روپے بھی خرچ کیے جاچکے ہیں، تاہم اب کزشتہ 2سال سے چیئرپرسن منصوبہ بندی کمیشن کی ہدایت پر فنڈز کی ادائیگی بند ہے، اس لیے منصوبے پر کام بھی بند کردیاگیاتھا مگر چونکہ حکومت کی ہدایت پر ایک بار پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے سابق پی ڈی ظفر پلیجو کو تعینات کردیا گیا ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ مزید فنڈز کے خرچ کرنے کے باوجود منصوبے کو جلد مکمل نہیں کیا جاسکے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کو دوبارہ شروع کرانے کے لیے پی سی ون پرنظرثانی کرنی پڑے گی جس کے نتیجے میں اس کی نئی لاگت 11 ارب سے بڑھ کر 14 ارب ہوجانے کا بھی خدشہ ہے۔دوسری طرف واٹربورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اضافی پانی بھی نہیں مل سکے گا، اس لیے پورے پروجیکٹ سے سوائے فنڈز کے ضیاع کے اور کچھ نہیں حاصل ہوگا۔یادرہے کہ منصوبے کے تحت دریائے سندھ سے مذکورہ مقدار میں اضافی پانی حاصل کرنا ہے جو معاہدے کے مطابق کراچی کو فراہم نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ واٹر بورڈ کے پاس یہ پانی حاصل کرنے کے لیے نیٹ ورک کی عدم موجودگی ہے۔