عیدالفطر مبارک

347

آج پاکستانی عوام عیدالفطر منا رہے ہیں۔ رمضان بھی سماجی فاصلوں میں گزارا اور عید بھی پابندیوں میں آئی ہے۔ کورونا وبا کے بارے میں بحثیں بھی ہو چکیں اور بہت سے لوگوں کے اعتراضات بھی سامنے آچکے لیکن جو چیز پاکستان میں بروئے کار یا نافذ ہے وہ عالمی ادارہ صحت کا ایجنڈا ہے۔ جس کے نتیجے میں ساری دُنیا مشکل میں آگئی ہے۔ پاکستانی تو کشادہ دل لوگ ہیں۔ عیدین پر اپنے دل کھول کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ دوسروں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں لیکن کورونا سے زیادہ تباہی کا سبب لاک ڈائون تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہو گئے۔ وفاق اور سندھ کے حکمران لڑتے رہے اور لوگ بیروزگار ہوتے رہے۔ ایک متموّل گھرانے کے فرد نے خوب تبصرہ کیا کہ کیا غریب لوگ عید کی خریداری نہ کرنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ اس ظالمانہ تبصرے سے قبل انہوں نے سوچا بھی نہیں کہ مسئلہ غریبوں کا کپڑوں کی خریداری نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی بیروزگاری ہے۔ کاروبار کھلا تو دکانداروں کو بھی کچھ سانس لینے کا موقع ملا اور ان کے پاس ملازم لوگوں کے گھروں کے چولہے بھی جلے۔ خیر کورونا تو اسی طرح چلے گا جس طرح اسے چلانے والے چلانا چاہیں گے لیکن امت مسلمہ اس سال کشمیر، فلسطین، روہنگیا مسلمانوں اور پورے بھارت میں جنونی ہندوئوں کا شکار مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ عراق، شام، یمن کے خون میں ڈوبے ہوئے حالات میں عید منا رہی ہے۔ ایسی عیدیں تو مسلمانوں نے بہت منائی ہیں۔ اب تو مسلمانوں کے بھی دو واضح طبقے ہوگئے ہیں۔ ایک حکمرانوں کا ہے اور دوسرا عوام کا۔ عوام کچھ اور سوچتے ہیں اور حکمران اس کا الٹ کرتے ہیں۔ لیکن کشمیریوں نے مسلم حکمرانوں کا چہرہ دیکھ لیا ہے۔ کشمیریون کے چھ ماہ کے مکمل لاک ڈائون کے بعدجب دُنیا نے اپنے اپنے ملکوں میں موت کے خوف سے لاک ڈائون کیے تو کشمیروں کے درد کا کچھ تو احساس ہوا ہوگا۔ غزہ کے لاک ڈائون کو بھی یاد کیا ہوگا۔ ہمارے حکمران ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ قوم کی عظیم بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو بھی بھول چکے ہیں۔ اب انہیں الیکشن ہی میں عافیہ یاد آئے گی۔ پاکستانی قوم بہرحال بڑی حوصلہ مند ہے۔ عید سے دو روز قبل ہولناک حادثہ، کورونا سے اموات، چینی اور گندم اسکینڈل والے حکمران ذخیرہ اندوز مافیا کی سرکاری سرپرستی کے باوجود آج عید منا رہی ہے۔ دکھی دل سے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے بھی دعا کریں۔