چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹر قرار، مشیروں اور معاونین خصوصی کواثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت

360

اسلام آباد: وزیراعظم نے مشیروں اور معاونین خصوصی کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت کردی ہے، حکومت نے چینی بحران سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری کردی، کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹر کو قرار دیا ہے، ریگولیٹر کی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاوں خصوصی شہزاد اکبر نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں،سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا، جے ڈی ڈبلیو گروپ نے غیر قانونی طور پر کرشنگ میں اضافہ کیا اور ڈبل بلنگ اور اوور انوائسنگ میں ملوث پائی گئی۔ آر وائی گروپ میں مونس الٰہی کے 34 فیصد شیئرز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیسز نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے، کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آنے والے دنوں میں ایکشن ہوگا۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا گیا، وزیراعظم نے مفادات سے ٹکراﺅ سے متعلق قانون لانے کی ہدایت کی ہے، ادارے 20 ماہ میں خراب نہیں ہوئے، سابق حکمرانوں کے کاروباری مفادات تھے۔

انہوں نے مزید  کہا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر منافع پہنچایا،پہلے کسی حکومت کی ہمت نہیں ہوئی کہ اس طرح کا تحقیقاتی کمیشن بنائے، چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کو دیکھ کر وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی بنائی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے شوگر بحران رپورٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے پبلک کرنے کا فیصلہ کیاہے،وفاقی کابینہ نے اس حوالے سے بڑے اہم فیصلے کئے، سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ جیسے ہی یہ رپورٹ سامنے آئے اسے پبلک کیا جائے تاکہ عام آدمی کو پتہ چل سکے کہ اس کے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی ہے۔ کمیشن نے یہ کیسز نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آنے والے دنوں میں ایکشن ہوگا، کابینہ نے نظام کو فعال اور اداروں کو متحرک کرنے کی منظوری دی ہے۔