محنت کشوں کیلیے3 ہزار روپے کی حکومتی امداد مذاق ہے ‘شمس الرحمان

66

کراچی (پ ر )نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صد رشمس الرحمان سواتی نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے نتیجے میں گھروں میں رہنے والے ڈیلی ویجز ملازمین او ر روز کی روز کھانے کمانے والے ملازمین کیلیے تین ہزار روپے کی امداد کے اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے ۔ایک جانب تو حکومت نے آئی ایم ایف ودیگر مالیاتی اداروں سے اپنے قرضوں میں ریلیف حاصل کر لیا ہے اور دیگر ممالک سے بھی امداد طلب کی گئی ہے لیکن وہ غریب اور مستحق افراد کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے اور انہیں بھکاری بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت تمام تر غیرضروری اخراجات فی الفور بند کرے ۔ارکان اسمبلی ،سینیٹ،وزیر اعظم ، صدر، وزیر اعلیٰ،گورنر سمیت تمام اعلیٰ عہدیداران کی تنخواہیں بند کی جائیں اور کورونا وائرس کے نتیجے میں بے روزار ہونے والے افراد جن میں کھیت کھلیان کا مزدور ، گھروں پر کام کرنے والے ،ٹھیلا ،ریڑھی لگانے والے ،بسوں ، ویگن میں کنڈیکٹر ڈرائیورہواورٹلوں کے بہرے،راج مستری اور رنگ ساز،موٹر سائیکل مکینک ودیگر مزدور جو کہ روزانہ کی بنیاد پرکھاتے اور کماتے ہیں انہیں کم از کم دس ہزار روپے کی امداد دی جائے تاکہ وہ با آسانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزرا کر سکے۔