کوروناوائرس جسم سے باہر کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟

389

لازمی نہیں ہے کہ کوروناوائرس وبا متاثرہ شخص سے ربط قائم ہونے سے پھیلے بلکہ بے جان اشیاء پر بھی وائرس کے باقی رہ جانے والے اثرات جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ وہ اشیاء جنہیں متاثرہ شخص کیلئے استعمال کیا گیا ہو، اُن پر کوروناوائرس کے اثرات پائے جاسکتے ہیں۔

پلاسٹک: نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق ماہرین نے پلاسٹک کے ایک ٹکڑے پر کوروناوائرس کے نمونے کو رکھا۔ ماہرین نے تجربہ کیا کہ 8 گھنٹے بعد کوروناوائرس کے صرف 10 فیصد اثرات پلاسٹک پر رہ گئے لیکن مکمل طور پر اس کا خاتمہ 72 گھنٹے بعد ہوا۔

فولاد ( اسٹیل): پلاسٹک کے بعد جب ماہرین نے کوروناوائرس کے نمونے کو اسٹیل پر رکھا تو دیکھا کہ 4 گھنٹوں کے بعد ہی کورونا وائرس کے اثرات میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی اور 48 گھنٹے بعد فولاد پر وائرس کے اثرات ناپید ہوگئے۔

کوپر اور گَتّا: کوپر اور گَتّے پر وائرس کے اثرات میں 4 گھنٹوں بعد کمی آنا شروع ہوئی جبکہ مکمل خاتمہ 48 گھنٹے بعد ہوا۔

اشیاء پر کوروناوائرس کے جتنے کم اثرات ہوں گے اتنا ہی اس سے متاثر ہونا ناممکن ہوگا۔

میڈیکل کالجز کی امریکی ایسوسی ایشن کی چیف سائنٹفک آفیسر رَوس مکینی کا کہنا ہے کہ ایک شخص کا کوروناوائرس سے متاثر ہونے کیلئے وائرس کی ایک مخصوص مقدار کا اس کے اندر جانا لازمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وائرس جِلد سے کبھی منتقل نہیں ہوتا بلکہ انگلیوں کا آنکھوں اور ناک کو چھونا لازمی ہے تاکہ وائرس اندرونی جِلد کی تہہ سے ہوتے ہوئے جسم کے اندر داخل ہوسکے۔ اس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر میں جوسب سے اہم اور اوّل ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی ایسی شے کو ہاتھ لگانے کے بعد جسے دوسرے شخص نے چھوا ہو، فوراً صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھولیا جائے۔