سعودی عرب میں کرفیو سے کیا کیا چیزیں مستثنیٰ ہوں گی؟

440

ریاض: کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کرفیو کا اعلان کردیا ،سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں جزوی کرفیو کا اطلاق 23 مارچ سے ہو گا،کرفیو کی مدت 21 روز ہے اور اس دوران شام 7بجے سے صبح 6 بجے تک گھروں سے نکلنے پر پابندی ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق جن صورتوں میں کرفیو سے استثنا حاصل ہوگا وہ درج ذیل ہیں :

اہم سرگرمیاں انجام دینے والے مقامات۔

غذائی سیکٹر مثلا سپر مارکیٹس، سبزی ، مرغی اور گوشت فروخت کرنے کی دکانیں، روٹی کے تندور اور غذائی اشیاء تیار کرنے والے مقامات۔

صحت سے متعلق سیکٹر مثلا فارمیسیز، طبی کلینکس، ڈسپنسریز، ہسپتال، لیبارٹیریز اور طبی مواد اور مشینیں تیار کرنے والے مقامات۔

میڈیا سیکٹر کے مختلف ذرائع۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر مثلا سامان اور پارسلز کی منتقلی، کسٹم کلیئرنس، گودام، ڈپوز، لوجسٹک خدمات، طبی سیکٹر اور فوڈ سیکٹر اور بندرگاہوں کی سرگرمیاں۔

ای کامرس کی سرگرمیاں مثلا اس سے متعلقہ ایپلی کیشنز کیلئےکام کرنے والے افراد۔

ہوٹلز اور فرنشڈ اپارٹمنٹس۔

توانائی سیکٹر مثلا ایندھن کے اسٹیشنز اور بجلی کی کمپنی کی ہنگامی خدمات۔

مالیاتی اور بیمہ خدمات فراہم کرنے والا سیکٹر۔

ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر مثلا انٹرنیٹ اور کمیونی کیشن نیٹ ورکس کا آپریشن۔

پانی کا سیکٹر مثلا واٹر بورڈ کی جانب سے ہنگامی خدمات اور گھروں پر پینے کا پانی پہنچانے کی خدمات۔

کرفیو کے اوقات میں سیکورٹی فورسز کے علاوہ صحت کے شعبے سےمتعلق گاڑیوں کوسرگرمیاں انجام دینے والی گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔

کرفیو کے دوران اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے ڈلیوری سروس کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ یہ اجازت کھانے پینے کی ضروریات، دواؤں اور دیگر ضروری سامان کے طلب کرنے کی صورت میں ہوگی۔

سعودی حکومت نے مستثنی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کیلئےٹول فری نمبر 999 بھی جاری کیا ہے جس پر رابطیہ کیا جاسکتا ہے ۔ البتہ مکہ مکرمہ صوبے کے لوگوں کو اس مقصد کیلئے 911 پر رابطہ کرنا ہوگا۔

کرفیو کے اوقات میں مؤذنوں کو اذان دینے کیلئےمساجد پہنچنے کی اجازت ہوگی۔

کرفیو کے دوران سفارتی مشنوں اور بین الاقوامی تنظیموں کیلئےکام کرنے والوں کو اپنے کام کی جگہ پر جانے کی اجازت ہو گی۔