بدین:محکمہ زراعت میں من پسند افراد کی بھرتی کا سلسلہ جاری

67

بدین (نمائندہ جسارت) محکمہ زراعت کا ذیلی ادارہ اور پروجیکٹ واٹر مینجمنٹ فعال اور بحال، پرانے ملازمین نظر انداز قوائد وضوابط کیخلاف بغیر درخواست اور انٹرویو کے خفیہ طور پر من پسند افراد کی بھرتی اور تعیناتی کا سلسلہ جاری۔ پرویز مشرف دور حکومت میں نہری پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زرعی مقاصد کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق ملک بھر میں واٹر مینجمنٹ اور اسٹرکچر کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے نیشنل پروگرام آف امپرومنٹ آف واٹر کورس کو تشکیل دے کر واٹر کورس پختہ کرنے کے لیے اربوں روپے کے فنڈ جاری کرتے ہوئے سندھ میں چار سو پچاس سے زائد ملازمین بھرتی کیے گئے، جن میں صوبائی مینجمنٹ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر ڈائریکٹر افسران انجینئرنگ برانچ کلرک نائب قاصد مالی راڈ میں شامل تھے۔ مشرف حکومت کے بعد فنڈنگ بند ہونے کے باعث پروجیکٹ غیر فعال ہوگیا۔ ملازمین کی تنخواہیں بھی بند ہونے کے بعد نچلی سطح کے ملازمین کو فارغ کر دیا گیا تھا۔ پروگرام اور پروجیکٹ کو ایک بار پھر بحال اور فعال کرنے کے فیصلے کے بعد حکومت سندھ محکمہ زراعت نے واٹر مینجمنٹ کے پرانے ملازمین کو بحال کرنے کے بجائے نظر انداز کرتے ہوئے بغیر اشتہارات درخوست اور انٹرویوز کے قوائد و ضوابط کیخلاف خفیہ طور پر من پسند افراد کو سفارش اور رشوت لے کر بھرتی کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اطلاع کے مطابق صرف ضلع بدین میں صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو کی سفارش پر ساٹھ سے زائد من پسند افراد کو آفر لیٹر جاری کر کہ بدین کے پانچ تعلقوں کی آٹھ فیلڈ آفسرزمیں تعینات کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔