ایران کے پیٹروکیمیکل سیکٹر پر نئی امریکی پابندیاں

131

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے ایران کے پیٹرو کیمیکل سیکٹر کو نئی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے پیٹرو کیمیکل شعبے پر تازہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ تازہ پابندیوں میں چین، ہانگ کانگ اور جنوبی افریقا کی ایسی 9 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے، جوایران کے ساتھ پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں تعاون کر رہی ہیں۔ بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں میں 3 چینی کمپنیاں دالیان گولڈن سن امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ، تیانی انٹرنیشنل اور اوشین شپ مینجمنٹ شامل ہیں۔ جب کہ 3 ایرانی شہریوں کو بلیک لسٹ کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں ایران میں مسلح افواج کی سوشل سیکورٹی انوسٹمنٹ کارپوریشن کو بھی نشانہ بنارہی ہیں۔ امریکا نے ایران سے زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران زیر حراست چند امریکیوں کو چھوڑنے پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت ایرانی فوج کی سوشل سیکورٹی انوسٹمنٹ کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر کو غیر منظور شدہ اداروں سے سرمایہ کاری کرنے پر بلیک لسٹ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا تہران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ جاری رکھے گا۔ ان پابندیوں کے اگلے زور جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی پیٹرو کیمیکل شعبوں میں تعاون کرنے پر متحدہ عرب امارات میں قائم 5 کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کردیں۔ محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان 5 کمپنیوں نے 2019ء میں ایران کی نیشنل آئل کمپنی سے لاکھوں میٹرک ٹن پیٹرو کیمیکل مصنوعات خریدیں۔ امریکا نے متحدہ عرب امارات میں قائم جن کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے، ان میں پیٹرو گرینڈ ایف زیڈ ای، ایلفابیٹ انٹرنیشنل ڈی ایم سی سی، سوئسول ٹریڈ ڈی ایم سی سی، عالم الثروہ جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی اور الوانیو ایل ایل سی کارپوریشن شامل ہیں۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل امریکا نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی مدد کرنے والے پیٹرو کیمیکل ہولڈنگ گروپ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس اقدام کا مقصد ایرانی فوجی طاقت کی مالی اعانت کے ذرائع ختم کرنا تھا۔ اس وقت امریکی وزارت خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی وزارت تیل نے گزشتہ سال پاسداران انقلاب کے معاشی اور انجینئرنگ دستے کو22 ارب ڈالر مالیت کے تیل اور پیٹرو کیمیکل صنعتوں میں 10 منصوبوں سے نوازا تھا۔ یہ رقم ایران کے سالانہ مالی سال کے بجٹ سے چارگنا زیاہ ہے۔ جب کہ رواں برس جنوری میں امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ 8 اعلیٰ عہدے داروں پر پابندی کے ساتھ ایران میں کان کنی اور دھاتوں کی پیداوار کی ایک درجن سے زائد کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی، نائب چیف آف اسٹاف محمد رضا اشتیانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدے دار پر امریکا پابندی لگا چکا ہے۔