کوروناوائرس اپنے خاندان کی تیسری نسل ہے، فلو سے اس کا تعلق نہیں: پروفیسر ڈاکٹر سعید خان 

935

کراچی (رپورٹ : محمد انور ) ملک میں سرکاری شعبے کی سب سے بڑی میڈیکل ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کے شعبہ مالیکیولر پتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ ” کورونا وائرس کا فلو یا نزلہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، نزلہ ایک عام بیماری ہے ، نزلہ سے انفلوئنزا اور الرجی ہوسکتی ہے ، لیکن کورونا ایک خاص وائرس سے پیدا ہوتا اس وائرس کی شکل تاج نما (کراون)  کی طرح ہوتی ہے , یہی وجہ ہے کہ اس کا نام کورونا ہے “۔ حکومت سندھ نے اس مرض سے لوگوں کو  محفوظ رکھنے کے لیے جو بھی اقدامات کیے ہیں ، وہ قابل اطمینان ہیں۔

وہ جمعرات کو ” جسارت ” سے گفتگو کررہے تھے ۔ ڈاکتر سعید خان کا کہنا تھا کہ یہ دسمبر 2019 میں چائنا کے شہر وہان سے جنریٹ ہوا وہاں سے پورے چائنا میں پھیلا پھر وہاں سے لوگ دوسرے ملکوں میں گئے جہاں یہ لوگ گئے وہاں اپنے جیبوں ، ہاتھوں اور جسم کے ذریعے یہ لے گئے، اس طرح یہ لوگ پھیلتے گئے اور یہ وائرس پھیلاتے گئے ، ہمارے پڑوس ملک ایران میں آیا جہاں زیارت کے لیے جانے والے لوگوں کے ذریعے یہاں بھی پہنچ گیا۔

چونکہ یہ مرض کسی دوسرے فرد کو ایک میٹر کے فاصلے سے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس لیے یہ خطرناک اور خوفناک قرار پایا، اس مرض میں مبتلا کوئی مریض کھانسے ؛  چھینکے گا اور یاس جمائی اور سانس لے گا  تو یہ ایک میٹر کے فاصلے کے باوجود دوسرے تک پہنچ جائے گا۔

یہی نہیں اس مرض میں مبتلا کوئی شخص اگر کھانستے ہوئے اپنے منہ کو چھینکتے ہوئے اپنی ناک تک ہاتھ لے جائے گا اور پھر وہ  جہاں بیٹھے کا جو چیز استعمال کرے گا وہاں تک وائرس پھیلائے گا ۔ ایسے فرد  کے ذریعے بھی ہاتھ ملانے یا مصافحہ کرنے سے دوسرے کو منتقل ہوسکتا ہے ۔

یہ وہ بیماری ہے جو منہ، آنکھ اور ناک کے ذریعے کسی دوسرے کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے جسے ہم ” پورٹل اف انٹری ” کہتے ہیں ۔

چونکہ ہاتھوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کے زیادہ خدشات ہیں اس لیے یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ ہاتھوں کو بار بار دھویا جائے اور کم از کم 20 سیکنڈ تک دھویا جائے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ یہ وائرس پہلی بار کب سامنے آیا؟ پروفیسر سعید خان نے بتایا ہے کہ “یہ کورونا ایک پوری فیملی ہے، اب ہم لوگ جس وائرس کی بات کررہے ہیں وہ نوویل کورونا وائرس ہے، یہ پرانے وائرسس کی اپ ڈیٹ نسل ہے، یہ وائرس کا نیا ایڈیشن ہے، 2002 میں یہ سارس (SARS ) کے نام سے وجود میں ایا تھا جو بہت زیادہ پھیلے بغیر  2004 میں ختم ہوگیا  ، پھر 2012 میں مرس(MERS ) کے نام سے ایک اور کرونا کی نسل سامنے آئی تھی جو مشرق وسطی سے اونٹوں کے ذریعے آیا تھا اور اب جو وائرس ہے وہ 2019 میں آیا تھا اس وائرس کی خطرناک ہونے کی وجہ انسانوں میں پائی جانے والی کمزوریوں میں اضافہ ہے۔

یوں سمجھیں کہ اس جراثیم کو انسانی کمزوریوں کا پتا چل گیا ہے ۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آبادی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ماہر مالیکیولر پتھالوجی ڈاکٹر سعید نے ایک اور سوال کے جواب میں یہ بھی واضح کیا کہ بنیادی طور پر یہ وائرس جانوروں کا ہے یہ بہت عرصے بعد جانور سے انسانوں میں منتقل  ہوا ہے یہ ابتدائی طور پر چمگادڑوں مین بھی تھا ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ وائرس جانوروں سے انسانوں مین منتقل نہیں ہوتا اس لیے کھانے پینے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

 اب یہ وائرس صرف انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہورہا ہے ۔ اس سوال کہ جواب میں کہ کیا اس مرض سے مرنے کے بعد بھی اس کے اثرات مردہ جسم میں باقی رہتے ہیں ، ڈاکٹر  سعید نے بتایا ہے کہ بالکل رہ سکتے ہیں مگر  غسل و کفن اور تدفین کے عمل میں بس احتیاط کرنی چاہے کہ دستانے وغیرہ پہن کر غسل وغیرہ دینا چاہیے بہت سے معاملات اللہ پر بھی احتیاط کے بعد چھوڑ دینا چاہیے ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہیے جو شرعی نہ ہو ۔