دعا منگی اور بسمہ کیس : اغوا کار گینگ کے 2کارندے گرفتار

308

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد میں اغوا ہونے والی لڑکیوں دعا منگی اور بسمہ کیس میں تفتیشی اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اغوا کار گینگ کے 2کارندوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ بات ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب اور رینجرز افسران نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایل سی اے وی سی سی اور رینجرز کی بھرپور کاوشوں سے بسمہ اور دعا منگی اغوا کیس میں ملوث2 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی، بسمہ کو اغوا کرکے کلفٹن کے ایک فلیٹ میں قید کرکے رکھا تھا ،دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس میں ملوث 5ملزمان شامل تھے۔پولیس نے ملزم مظفر اور زوہیب کو گرفتار کیا گیا تاہم 3ملزمان آغا منصور ، شکیل اور کامران عرف کامی مفرور ہیں ،ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ملا ہے، ملزمان ماضی میں گاڑیاں چوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی غلام بنی میمن نے بتایا کہ دعا منگی اور بسمہ اغواکیس میں ایک سابق پولیس افسربھی ملوث تھا،پولیس دونوں خاندانوں کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہیں،ملزمان بسمہ اور دعا منگی کے گھر والوں سے رابطہ کرنے کے لیے سوشل نیٹ ورک استعمال کرتے تھے ،اغوا کاروں کے 3 ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی چھاپا مار ٹیم تشکیل دے دی ہے،اس گروپ کا ماسٹر مائنڈ سابق پولیس افسر آغا منصور ہے، گرفتار دونوں ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اغوا کا پلان کے تحت فلیٹ کرایے پر لیا گیا ، جہاں دونوں لڑ کیوں کو تاوان کی رقم کے بعد رہا کر دیا ، ملزم کو تکینکی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم مظفر بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، مظفر کا تعلق قوم پرست جماعت سے ہے، گرفتار ملزم کا اغوا کی دونوں وارداتوں میں اہم کردار رہا ہے۔ کلفٹن کے علاقے میں گھر پر چھاپا مارا تھا، چھاپے کے دوران اہم سراغ ملے جن سے ملزم مظفر کا پتا چلا، جس کے بعد ملزم کو2ماہ سے آبزرویشن پر رکھا ہوا تھا، گرفتار ملزم نے دونوں اغوا کی وارداتوں میں تاوان لینے کا بھی اعتراف کیا۔ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات تفتیشی ادارے کی تحویل میں، بہت سے شواہد اکٹھیکیے گئے جس جگہ دونوں کو رکھا گیا وہاں سے لیڈز ملی،تاثر قائم کیا گیا ہے پولیس ناکام ہوگئی ہے،ملزمان کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ایڈیشنل آ جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس کے ملزمان کو گرفتار کرنے پر سندھ حکومت سے پولیس افسران اور ٹیم کے لیے انعام کی درخواست کریں گے جبکہ 3 مفرور ملزمان کے سر کی قیمت رکھنے کی سفارش بھی کی جائے گی ۔