پاکستان میں مزید 2افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ‘تعداد چار ہوگئی

601

کراچی/ اسلام آباد/ (اسٹاف رپورٹر/محمد انور/نمائندہ جسارت) کراچی اور اسلام آباد میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہوگئی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کے دوران ملک میں مزید 2 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ نئے کیسز بھی کراچی اور اسلام آبادمیں رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا ہے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ ان سے پہلے جو 2 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے اب وہ صحت یاب ہو رہے ہیں جن میں سے ایک مریض کو جلد ہی اسپتال سے فارغ کردیا جائے گا۔ زائرین کے حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کرلی ہے کہ تفتان سے زائرین کو کیسے واپس لانا ہے، اب ہم بتدریج ایران سے زائرین کو واپس لا رہے ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق شام 5 بجے ہوئی جس کے بعد اسے قرنطینہ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس کو بھی شکست دیں گے‘ وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے کہ ’’کورونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘‘ اس ضمن میں تمام صوبائی حکومتوں سے انتظامات کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔محکمہ صحت سندھ نے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو کراچی سے باہر منتقل کرنے کافیصلہ کرلیا‘ یہ فیصلہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کیا گیا ہے کیونکہ شہر میں قائم سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم اور بے پناہ رش ہوتا ہے‘ کورونا وائرس ایک سے دوسرے صحت مند افراد میں منتقل ہوتا ہے اس لیے حکومت نے ایسے مریضوں کو آبادی سے دور گڈاپ اسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘ گڈاپ ٹاؤن میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے پہلا 50 بستروں پر مشتمل اسپتال قائم کر دیا گیا جب کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف پر مشتمل 15 رکنی ہیلتھ ٹیم طبی سہولتیں مہیا کرے گی۔ سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر صحت نے بھی گڈاپ ٹاؤن میں50 بستروں پر مشتمل پہلے کورونا اسپتال کا دورہ بھی کیا اور مریضوں کو مستقبل میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کا جائزہ بھی لیا اور تمام اسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ پیر سے وائرس سے متاثرہ اور مشتبہ مریضوں کو گڈاپ اسپتال منتقل کیا جائے‘ اسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ بھی قائم کردیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ترجمان میران یوسف کے مطابق ہفتے کی شام 5 بجے ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس نے ایران کا سفر کیا تھا اور وہیں سے اسے کورونا وائرس لاحق ہوا‘ ڈپٹی ہیلتھ آفیسر سائوتھ نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ کھارادر جیلانی سینٹر والی گلی میں واقع شمع پلازہ سے65 سالہ مختار حسین اور25 سالہ اصغر علی کو کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر چیک اپ کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا جب کہ اس دوران دونوں افراد کی پوری فیملی کا بھی سول اسپتال میں چیک اپ کیا گیا ۔60 سالہ مختار حسین اور25 سالہ اصغر علی چند روز قبل ایران سے کراچی آئے تھے اور دونوں افراد کو سول اسپتال کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا وائرس پر ٹاسک فورس کا تیسرااجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری سندھ، وزیر صحت، میئر کراچی اور دیگر شریک ہوئے۔ جس میں کورونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں حکومت سندھ نے کورونا وائرس کی ممکنہ روک تھام کے نام پر فوری 10 کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مصدقہ سرکاری ذرائع کے مطابق سیکرٹری فنانس کی تجویز پر یہ رقم کورونا وائرس سے بچاو کے لیے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات پر خرچ کی جائے گی ۔ اس مقصد کے لیے 3 مارچ کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس رقم کی منظوری لی جائے گی۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کے اقدامات کا تعلق محکمہ صحت سے ہے لیکن محکمہ صحت نے اس حوالے سے فوری رقم کی ضرورت کے لیے کوئی سمری وزیراعلیٰ کو نہیں بھیجی تھی۔ محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وائرس کی روک تھام اور اس سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت اقدامات کرچکی ہے فوری طور پر اس مقصد کے لیے 10کروڑ روپے کے فندز کی ضرورت بظاہر نظر نہیں آرہی۔ خیال ہے کہ کورونا وائرس کے نام پر سرکاری عناصر کی طرف سے فنڈز کی خورد برد کی تیاری کرلی گئی ہے۔