مظلوم خواتین کے حقوق کا نعرہ لگا نا فیشن بن گیا ، اسما سفیر

111

کراچی(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )کراچی کی ناظمہ اسما سفیرنے کہا ہے کہ مظلوم خواتین کے حقوق کا نعرہ لگا نا فیشن بن گیا ہے اور عورت کے بنیادی حقوق کا معیار مادر پد ر آزادی کوقرار دیا گیا ہے۔ اسلام ہی عورت کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ عورت کو اس کا وہ مقام دینے کی ضرورت ہے جو اس کے رب اور خالق نے اسے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے نامپردنیا بھرمیںخواتین کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ایک طرف عورتوں کے حقوق کے لیے این جی اوز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف عورتوں پر تشدد کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ۔ ہمیں اس موقع پر اس کلچر کو بدلنا ہوگااوراسلام کی روشنی میںحقوق کے معیارات طے کرنا ہوںگے تا کہ خواتین کے حالات میںحقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )کے تحت تکریم نسواں مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں ادارہ نورحق میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کراچی شعبہ جات اور برادر تنظیموں اور تمام ناظمات اضلاع موجود تھیں۔اسما سفیر نے کہا کہ آج کی عورت باشعور ہے اور ہر میدان میں عملی طور پر شریک ہے۔ضرورت اس بات کی ہے عورت سے اس کے دائرہ کار میں آسانیاں فراہم کرکے اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے،معاشی ترقی کے دور میں عورت اور مرد دونوں بوجھل ہو رہے ہیں جس سے خاندانی نظام متاثر ہیں،ہمارے بچے ہمارا سرمایہ ہیں ،نسلوں کی تربیت عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو معاشرے میں سب سے زیادہ عزت و احترام دیا، اسے معاشرتی و سماجی سطح پر بھی بلند مقام عطا کیا، جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے مگر مقام افسوس ہے کہ حقوق نسواں کے مصنوعی نعروں کے ذریعے خاندان کے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جارہا ہے، اخلاقی بے راہ روی،مردوزن کا آزادانہ اختلاط ورمادہ پرستی کی لہر کو اجاگر کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو تہذیبی و ثقافتی یلغار کے ساتھ ساتھ معاشی و معاشرتی،عدل وانصاف کی عدم دستیابی اورصحت کے مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے محض دن منانے ا ورتقاریر کرلینے سے مسائل حل نہیں ہوتے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی و اسلامی قدروں کو فروغ دیا جائے اور اسلام جوخاندانی نظام اور خواتین کے حقوق کا بہترین ضامن ہے اس کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔