انٹرنیٹ کو پاکستان کیخلاف جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جارہا ہے، مرزا جان

62

کرک (خصوصی رپورٹ) خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرزا جان نے کہا ہے کہ وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کے مقابلہ اور مداوا کے لیے یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ وطالبات کو سائبر سیکورٹی کے بارے میں تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دشمن ممالک کی مسلط کردہ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا صحیح انداز میں مقابلہ کیا جاسکے اور نوجوان نسل کو دشمن ممالک کے تمام تر منفی ہتھکنڈوں سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارخوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے امن کے استحکام کیلیے سائبر سیکورٹی کے اقدامات کے بارے میں منعقد ہونیوالی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں فیکلٹی ممبران، طلبہ، سائبر سیکورٹی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میںسوشل میڈیا پر سائبر اسپیس کے غلط استعمال کے خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے انسدادی حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔سائبر سیکورٹی امور کے ماہر اسفند اوصاف نے کہا کہ ہمارا پاک وطن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور ہمارے ملک کی بہادر افواج نے جنونی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے طوفان کا بڑی حوصلہ مندی اوربہترین منصوبہ بندی سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ہے، اس لیے اب پاکستان کے دشمن ممالک انٹرنیٹ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کرکے پاکستان کی بقاوسلامتی کیخلاف گھناؤنی سازشیں کررہے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے ملک کی نوجوان نسل کو دشمن ممالک کے ناپاک عزائم سے خبردار کرتے ہوئے انہیں انٹرنیٹ کے صحیح استعمال کے بارے میں تربیت دینا ہوگی۔