انسداد منی لانڈرنگ بل 2020 کثرت رائے سے منظور

185

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ بل 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اراکین کی گنتی کے دوران بل سے متعلق تحریک کے حق میں 200 اور مخالفت میں 190 ووٹ آئے۔اسپیکر نے بل کی شق وار منظوری شروع کروادی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے مشترکہ اجلاس میں نقط اعتراض اٹھایا جس میں رضا ربانی نے کہا کہ بابر اعوان مشیر پارلیمانی امور ہیں وزیرِ ذمہ دار نہیں۔ مشیر کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر نہیں ہے اس لیے ان کا بل پیش کرنا درست نہیں، جس پر وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے میاں رضا ربانی کے نقطہ اعتراض پر جواب دیا کہ وزیراعظم کسی کو بھی مشیر لگا سکتے ہیں اور مشیر پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ بھی لے سکتا ہے،مشیر صرف ووٹ نہیں دے سکتا۔

اجلاس میں وقف املاک بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

وقف املاک بل کثرت رائے سے منظور، جماعت اسلامی کی ترمیم مسترد

بل کی منظوری کے دوران ترامیم مسترد کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج و ہنگامہ آرائی کی اور ووٹنگ بھی چیلنج کی جس پر اسپیکر نے اپوزیشن کا ووٹنگ چیلنج کرنے کا مطالبہ رد کردیا۔بات کرنے کا موقع نہ دینے پر اپوزیشن نے مشترکہ طور پر اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، انسداد منی لانڈرنگ بل پر حکومتی ترامیم منظور جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔