نعمت اللہ خان نے صرف4سال میں فلائی اوورز، انڈر پاسز اور سڑکوں کا جال بچھا دیا

334

کراچی( اسٹاف رپورٹر)2001 ء میں متعارف کرائے جانے والے ضلعی حکومتوں کے نظام کے بعد نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے ناظم منتخب ہوئے تھے۔ انہوںنے 4 سال کے مختصر عرصے میں کراچی کی شکل یکسر بدل کے رکھ دی۔شہر میں شدید حکومتی و انتظامی مخالفت کے باوجودنعمت اللہ خان نے شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا ۔نعمت اللہ خان جب ناظم کراچی منتخب ہوئے تو شہر کی آبادی5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی تھی لیکن اس کے مقابلے میں شہر کے اندر شہری سہولیات کا فقدان اور ترقیاتی کاموں کا کہیں وجود نہیں تھا۔ شہری انفرااسٹرکچر تباہ حال تھا اور پورا شہر کسی اجاڑ جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ تقریباً تمام بڑی شاہراہیں اور اندرونی راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے، بڑی چورنگیوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا، سیوریج کا نظام ابتر تھا، اورکبھی روشنی کا شہر کہلانے والے کراچی کی سڑکیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ اس صورتحال میں مسائل کا تذکرہ کرنے کے بجائے نعمت اللہ خان نے اربوں روپے کی لاگت سے بڑی شاہراہوں کو تعمیر کرایا، کروڑوں روپے کی لاگت سے چورنگیوں کی تزئین و آرائش کے بعد ان کو سگنلائزڈ کیا اور شہر میں سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور پلوں کا جال بچھادیا،ان شاہراہوں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کا بہترین انتظام کر کے آپ نے ایک مرتبہ پھر کراچی کو روشنیوں کا شہر” بنا دیا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے لیے “اربن ٹرانسپورٹ سکیم” سکیم شروع کی اور باہر سے بسیں درآمد کرنے کے علاوہ کئی پرائیویٹ کمپنیوں کو بسیں چلانے کے لائسنس دیے۔ پہلی دفعہ500 بڑی، کشادہ اور ائیر کنڈیشن بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں نظر آئیں۔ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے درجنوں “پیڈیسٹرین برجز” کی تنصیب کے علاوہ ڈرائیوروں کی تربیت کے لیے ڈرائیور اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ470 مقامات پر خوبصورت بس شیلٹرز تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح ماس ٹرانزٹ کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا گیا جس کے تحت87 کلومیٹر طویل مقناطیسی ریل چلائی جائے گی، جبکہ شہر میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی اورنگی، بلدیہ، کورنگی اور نارتھ کراچی تک اس کی توسیع کا منصوبہ منظور کرایا۔نعمت اللہ خان نے کراچی میں تعلیم کی بہتری کے لیے اپنے پہلے ہی بجٹ میں تعلیم کی مد میں ریکارڈ 31 فیصد رقم مختص کی۔ آپ کے ناظم بننے سے قبل بہت سے اسکولوں میں طلبہ کو کرسی اور ڈیسک اور گرلز اسکولوں میں ٹوائلٹ کی سہولت موجود نہ تھی، بہت سے اسکولوں میں پینے کا پانی تک مہیا نہیں تھا۔ آپ نے نئے اسکولوں کی تعمیر، پرانے اسکولوں کی تزئین و آرائش اور پانی کی فراہمی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے۔علاوہ ازیں اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے مختلف جدید ٹریننگ کورسز اور “پروفیشنل ٹریننگ پروگرام” میں ہزاروں اساتذہ کی تربیت کے بعد یہ تعداد2000 تک پہنچ گئی تھی۔ ناظم شہر بننے سے قبل شہر میں88 کالجز تھے، نظامت کے دوران 4 سال کی مختصر مدت میں ریکارڈ32 نئے کالجوں کا اضافہ کیا، اور تمام کالجوں میں آئی ٹی لیب کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ ایک اور قابل ذکر کام تعلیمی اداروں میں سیلف فنانس اسکیم ختم کر کے مرکزی داخلہ پالیسی کا نظام اپنانے کے بعد تمام کالجوں میں میرٹ پر داخلے کو یقینی بنانا ہے۔کراچی کے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے ضمن میں سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ نعمت اللہ خان نے 10 مختلف مقامات پر” پرچیسٹ پین سینٹر” کے قیام کا منصوبہ پیش کیا۔ اس میدان میں خاص کارنامہKARACHI INSTITUTE OF HEART DISEASEکے نام سے امراض قلب کے جدید ترین اسپتال کا قیام ہے۔ ملیر میں نئے اسپتال کی تعمیر کے علاوہ نیو کراچی میں اور کورنگی اسپتال میں “کڈنی ڈائلیس سینٹر” کا قیام بھی دور نظامت میں عمل میں آیا۔ اسی طرح ناظم شہر کے کیمپ آفس میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا جدید ترین “ڈائیگنوسٹک سینٹر” بھی نعمت اللہ خان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اُن کے دور نطامت میں کراچی کی ضلعی حکومت پاکستان کی واحد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ تھی جس نے زیر تربیت ڈاکٹروں کو وظائف فراہم کیے۔نعمت اللہ خان کی ایک پہچان” ماحول دوست” ناظم کی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی ہیوی انڈسٹری کی شہر سے باہر منتقلی کی بھرپور مہم چلائی اور کراچی بلکہ ملک بھر میں پہلی دفعہ سی این جی پر چلنے والی بسوں کو متعارف کرایا۔نعمت اللہ خان نے4 برس میں300 پارکس کو ازسر نو تعمیر کرایا،300 پلے گراونڈز کی حالت بہتر کرائی، بیشتر میں فلڈ لائٹس کی تنصیب ہوئی جبکہ کراچی کے 18ٹاونز میں سے ہر ٹاؤن کو کم از کم ایک ماڈل پارک بنا کر دیا۔ یہ ماڈل پارکس ملک بھر میں اپنی نوعیت کے منفرد پارک ہیں۔ اسی طرح دامن کوہ، باغ ابن قاسم اور گٹر باغیچہ پارکس جیسے میگا پروجیکٹس کا آغاز بھی آپ کے دور میں ہوا۔ سفاری پارک میں پاکستان کا سب سے بڑا سفاری ایریا ہے جو مناسب اقدامات نہ ہونے کے سبب35 سال سے بند تھا، آپ نے اس پر کام شروع کیا، جانوروں کی تعداد میں اضافہ کیا، سفاری کوچز چلائیں۔پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے آپ نے “کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ” شروع کیا جس سے روزانہ 10 لاکھ گیلن پانی شہریوں کو فراہم ہو سکے گا۔ اسی طرح آپ نے واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب اور سیوریج کے پانی کو ری سائیکل کر کے کارخانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کے معاہدے کیے۔ سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔ 50 سالہ پرانی پائپ لائنوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی اور نئے پمپس کی تنصیب کرائی۔ کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھانے کے لیے500 سولڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کیے۔نعمت اللہ خان کراچی کی کچی آبادیوں کو شہر کے ماتھے کا جھومر کہتے تھے۔ شہر کی52 فیصد آبادی رکھنے والی ان آبادیوں پر بھی آپ نے خصوصی توجہ دی۔ اس آبادی کا ایک خاص مسئلہ لیز پر زمین کی فراہمی ہے۔ آپ نے1999ء میں بڑھائے جانے والے لیز کے نرخ منسوخ کر کے1989ء کے نرخ بحال کیے جس سے لاکھوں غریب لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ اسی طرح اپنے صوابدیدی فنڈ سے ضرورتمند اور بیروزگار افراد میں سوا کروڑ روپے کی سلائی مشینیں، سائیکلیں، جہیز بکس اور دیگر سامان تقسیم کیا۔نعمت اللہ خان نے شہری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے فروغ، دینی معلومات میں اضافے اور اسلامی فن و ثقافت کی ترویج اور کھیلوں کی ترقی کے لیے بھی مختلف عملی اقدامات کیے تھے۔ شہریوں میں ابلاغ دین، قرآن وسنت کے پیغام کو عام کرنے اور معاشرے میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیا کے لیے “قرآن و سنہ اکیڈمی” قائم کی۔ اسی طرح “المرکز الاسلامی” کا منصوبہ مکمل کرایا جس میں ایک بڑی لائبریری، آڈیٹوریم، مسجد اور آرٹ گیلری برائے فنونِ لطیفہ شامل ہیں۔ سٹیزن کمیونٹی بورڈ، تھانوں میں لائبریریرز کا قیام، پبلک مقامات پر ائیرکنڈیشن لائبریریوں کی تعمیر، ویمن اسپورٹس کمپلیکس اور ویمن لائبریری کمپلیکس کی تکمیل اور مختلف اسلامی، اصلاحی اور سماجی پروگرامات کا انعقاد آپ کی بہترین کاوشوں کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔کراچی میں پہلی بار سٹی گیمز کا انعقاد بھی نعمت اللہ خان کاایک کارنامہ تھا۔ کل21 کھیلوں کے یہ مقابلے18 ٹاونز کی تمام178 یونین کونسلوں کی سطح پر منعقدہ ہوئے۔ نعمت اللہ خان کا دور نظامت دیانت اور فریقین کے خاتمے کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا جا کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک منصوبے کا پی سی ون میں جس کا تخمینہ25 کروڑ روپے تھے، دوبارہ ٹینڈر کرانے سے اس پر لاگت کا تخمینہ صرف6کروڑ روپے آیا۔ اسی طرح شاہراہ فیصل فلائی اوور پر26 کروڑ31 لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا مگر اسے18 کروڑ میں مکمل کرایا۔ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں ساڑھے8کروڑ کی کرپشن کا خاتمہ کیا۔ تمام ٹینڈرز اور معاہدوں کی جانچ پڑتال اور نیلامی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا، اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے تعاون سے Procurenment Mannual بنایا اور پھر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا۔نعمت اللہ خان نے اپنی انتھک محنت اور کوششوں کے بعد شہری حکومت کے بجٹ میں حیران کن حد تک اضافہ کیا اور اسے5 ارب سے43 ارب تک لے گئے۔29ارب کا “تعمیر کراچی پروگرام” بھی آپ کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ناظم کراچی کی حیثیت سے آپ نے ہفتے میں ایک دن عوامی رابطے کے لیے مختص کیا۔ اس دوران 60 ہزار سے زائد عوامی مشکلات و مسائل کو حل کیا۔نعمت اللہ خان شہری خدمات کے نتیجے میں2005 میں دنیا کے بہترین مئیرز کی فہرست میں شامل ہوئے، کسی بھی ناگہانی آفت و مصیبت کے وقت نعمت اللہ خان ہمیشہ متاثرین کی مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچتے تھے۔ الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کے خالق اور سربراہ ہونے کی حیثیت سے آپ نے کراچی کی غریب اور کم آمدنی والی آبادی کے لیے کئی ویلفیئر اسکیمیں بنائیں اور پورے شہر میں اسپتالوں، ڈسپنسریوں، اسکولوں اور مدارس کا جال سا بچھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ1996ء میں دادو،سندھ میں سیلاب،1997ء میں ہرنائی، بلوچستان میں زلزلے،1998ء میں تربت وگوادر، بلوچستان میں سیلاب،1999ء میں کیٹی بندر، جاتی، بدین اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان کے موقع پر ریلیف آپریشنز کی قیادت کی اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھا۔1997ء میں تھرپارکر میں آنے والے قحط کے دوران اور اس کے بعد نعمت اللہ خان نے تھرپارکر کے وسیع و عریض صحرا کے چپے چپے پر عوامی خدمت کا جو کام جماعت اسلامی کے نظم، کے تحت محدود وسائل سے کیا، وہ کروڑوں ڈالر کی بیرونی امداد پانے والی این جی اوز کے کام سے کہیں زیادہ ہے۔آپ نے تھرپارکر میں میٹھے پانی کی فراہمی کے لیے “زمزم پراجیکٹ” کے نام سے 363 کنویں کھدوائے جن سے ہزاروں بے وسیلہ صحرانشینوں کو پانی فراہم ہو رہا ہے۔ اسی طرح1000 سے زائد دیہاتوں میں “العلم پروجیکٹ” کے نام سے ان مظلوم و محروم لوگوں کی نئی نسل کوزیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے اسکول قائم کیے جو 21ویں صدی میں بھی زمانہ قبل از تاریخ کے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اکتوبر2005ء میں آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے آپ کو الخدمت پاکستان کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے زلزلہ متاثرین تک نہ صرف کروڑوں روپے کی مالی امداد پہنچائی بلکہ انھیں غذائی سامان، کپڑے، کمبل اور خیمے بھی مہیا کیے۔ نعمت اللہ خان کی فلاحی سرگرمیاں صرف پاکستان تک محدود نہیں ہیں بلکہ اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت دیگر اسلامی ممالک کے مصیبت زدہ عوام کی مدد کے لیے بھی آپ ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ جب اسرائیل نے لبنان پر جنگ مسلط کی تو نعمت اللہ خان نے مظلوم لبنانیوں کی داد رسی کے لیے وہاں کا دورہ کیا اور کروڑوں کی امداد بہم پہنچائی۔نعمت اللہ خان نے “فکر ملی ٹرسٹ” کے تحت ایک تھنک ٹینک ادار قائم کیا ہے۔ اس تھنک ٹینک سے چئیرمین آئی ایس پی آر پروفیسر خورشید احمد، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر جمیل جالبی، سابق چئیرمین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ڈاکٹر پریشان خٹک، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد رفیق، معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، معروف دانشور لیفٹننٹ جنرل(ر) حمیدگل اور سابق گورنر بلوچستان لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ جیسے لوگ منسلک تھے۔